خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 180

1945ء 180 خطبات محمود کی جائیں تو میرے خیال میں ابتدائی کام کے لئے پانچ لاکھ خرچ کرنا ہو گا۔ کیونکہ شروع میں ہی یہ کام مکمل نہیں ہو سکتا۔ پانچ لاکھ روپے کی رقم سے تمام مذاہب کی اہم کتابیں خرید کر لائبریری کی ابتدا کی جاسکتی ہے۔ تین لاکھ کی بلڈنگ اور پانچ لاکھ کی کتابیں یہ آٹھ لاکھ بنا۔ آٹھ لاکھ یہ اور آٹھ لاکھ بال کے لئے یہ سولہ لاکھ روپیہ بنتا ہے۔ یوں تو لائبریری پڑھنے ہی کے لئے ہوتی ہے لیکن ہماری غرض چونکہ یہ ہو گی کہ اسلام کی تبلیغ کو ساری دنیا میں پھیلائیں اس لئے ساری دنیا میں تبلیغ پھیلانے کے لئے ضروری ہو گا کہ ہم ایسے آدمی تیار کریں جو ہر زبان جاننے والے ہوں۔ یا اگر ہر ایک زبان نہیں تو نہایت اہم زبانیں جاننے والے ہوں جن زبانوں میں ان مذاہب کی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یونانی ہے ، عبرانی ہے تا کہ عیسائیت اور یہودیت کا لٹریچر پڑھ سکیں اور عربی جاننے والے بھی ہوں تاکہ اسلام کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ فارسی جاننے والے بھی ہوں تاکہ اسلام کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ سنسکرت اور تامل زبان جاننے والے بھی ہوں تا کہ ہندو اور ڈریوڈینز 3 (Dravidians) کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ پالی زبان جاننے والے بھی ہوں تاکہ بدھوں کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ چینی زبان جاننے والے ہوں تا کہ کنفیوشس کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ اور پہلوی زبان جاننے والے بھی ہوں تاکہ زرتشتیوں کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ اسی طرح پرانی دو تہذیبیں ایسی ہیں کہ گو اب وہ تہذیبیں مٹ چکی ہیں لیکن اُن کا لٹریچر ملتا ہے۔ اُن میں سے ایک پرانی تہذیب بغداد میں تھی اور ایک مصر میں تھی۔ ان کا لٹریچر پڑھنے کے لئے بابلی زبان اور ببلیو گرافی (Bibliography) جاننے والے چائیں تاکہ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر اسلام کی تائید میں جو حوالے مل سکیں ان کو جمع کریں۔ اور ان کے ذریعہ اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں ان حملوں کا جواب دے سکیں۔ جب تک ہم یہ کام نہیں کرتے ہم دشمن کا اُس کے ہی تجویز کردہ میدان میں مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مقابلے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اجمالی مقابلہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معجزات، نشانات اور دعا کے ذریعہ کیا۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ان معجزات اور نشانات کی طرف رخ نہیں کرتا بلکہ وہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ دوسری چیزوں اور دوسرے علوم کے ذریعہ اسے قائل کیا جائے۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام