خطبات محمود (جلد 25) — Page 86
1944ء 86 خطبات محمود کچھ یاد نہیں رہا صرف اتنا یاد رہا کہ عربی میں کچھ باتیں ہو رہی ہیں جن میں نُزُولُ السَّمَاء کے الفاظ ہیں۔ تو دیکھو کس طرح خدا تعالیٰ نے انہیں رویا میں خطبہ کے وقت کی کیفیت بتا دی اور کس طرح اس رویا کا نقشہ بھی بتا دیا جو میں نے دیکھی تھی۔ حالانکہ اُس وقت تک انہیں میرے اس اعلان کا کوئی علم نہیں تھا۔ اسی طرح اور لوگوں کو بھی ان ایام میں ایسی خواہیں دکھائی گئی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو ایسی خواہیں آئی ہیں۔ اگر ان کی سب کو جمع کیا جائے تو یہ خواہیں بھی لوگوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہو سکتی ہیں۔ جنہوں نے مجھے اپنی اپنی خواہیں لکھی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ الفضل پس وہ دوست میں ایسی تمام خوابیں شائع کرادیں اور اگر کسی اور دوست کو بھی کوئی خواب آئی ہو لیکن مجھے اس نے نہ بتائی ہو تو اُسے بھی وہ خواب " الفضل " میں شائع کرا دینی چاہیے۔ یہ بھی ایک نشان ہے جو لوگوں کے لیے ان کے ایمانوں میں زیادتی کا موجب ہو سکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں الْمُؤْمِنُ يَرَى اَوْ يُڑی لَهُ - 1 کہ مومن بعض دفعہ خود خواب دیکھتا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کو اس کے متعلق خواہیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ نشان در حقیقت شکی طبائع کی ہدایت کے لیے ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو دیر سے واقف ہوتے ہیں وہ تو سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص جھوٹ بولنے والا نہیں۔ لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی خوا ہیں خیالات کا اثر ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ خواہیں جو مختلف افراد کو اور مختلف مقامات میں رہنے والوں کو آتی ہیں اپنے اندر ہدایت کا سامان رکھتی ہیں۔ خیالات کا اثر آخر ایک شخص پر تو ہو سکتا ہے لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پانچ، دس، پندرہ یا بیس لوگوں کو ایک مہینہ کے اندر اندر ایسی خواہیں آ جائیں اور وہ لوگ بھی ایسے ہوں جو ایک دوسرے کے واقف نہ ہوں، ایک جگہ پر نہ رہتے ہوں، ایک دوسرے سے ملتے نہ ہوں اور ایک دوسرے سے ان کا کوئی زیادہ گہرا تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگوں کو ایک وقت میں ایک جیسی خوابوں کا آجانا بغیر الہی تدبیر کے کس طرح ہو سکتا ہے۔ پس یہ خوابیں بھی جو مختلف دوستوں کو آئیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا ایک مزید ثبوت ہیں کہ اس نے مجھ پر جس امر کو منکشف فرمایا وہ اپنے اندر صداقت اور راستی رکھتا ہے۔