خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 80

1944ء 80 خطبات محمود ہاتھ نہ ڈالے اور میں نے سلسلہ کی کتب کی متعدد کاپیاں مختلف ممالک میں پھیلا دیں۔ غرض گورنمنٹ کے یہ افعال میری آنکھیں کھولنے کا موجب ہو گئے اور میں نے سمجھا کہ یہ اسلام کی مظلومیت اور احمدیت کی بے کسی کا ثبوت ہے کہ ہر کس و ناکس، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ احمدیت کو اپنے بوٹ کی ٹھوکر لگانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ تب میں نے سمجھا کہ ہماری طرف سے اب تک احمدیت کو پھیلانے کی گو کوششیں ہوئی ہیں مگر وہ کوششیں وششیں اور محنتیں اتنی نہیں ہیں کہ اسلام اور احمدیت کو جلد سے جلد پھیلا سکتیں۔ ہم نے بے شک اپنے فرض کو ایک حد تک ادا کیا ہے۔ مگر ایسا احساس ابھی ہم میں پیدا نہیں ہوا کہ اس کے نتیجہ میں قلیل سے قلیل عرصہ میں احمدیت کار عب دنیا پر چھا جاتا اور اس قسم کی فرع فرعونی طبائع کو کو پتہ لگ جاتا کہ یہ سلسلہ خدائی طاقت سے بڑھ رہا ہے، اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ اس طرح تحریک جدید کا آغاز ہوا اور پھر ہر قدم پر اس تحریک نے ایسا رنگ بدلا جو میرے تحریک نے ایسا رنگ بدلا جو میرے اختیار میں نہیں تھا اور جماعت میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک ایسی روح پیدا کر دی جو ترقی کرنے والی جماعتوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ میں تحریک جدید کے اُس چندہ کو اتنی عظمت نہیں دیتا جو ان چند سالوں میں جمع ہوا۔ میں عظمت دیتا ہوں مجاہدین کی اُس جماعت کو جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کی ہوئی ہیں یا آئندہ وقف کریں گے اور میں عظمت دیتا ہوں قربانی کی اُس روح کو جو جماعت میں پیدا ہوئی۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے اس سے پہلے صدر انجمن احمد یہ ہمیشہ مقروض رہا کرتی تھی اور اُسے اپنا بجٹ ہر سال کم کرنا پڑتا تھا۔ جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا تو ناظروں نے میرے پاس آ آکر شکایتیں کیں کہ اس تحریک کے نتیجہ میں انجمن کی حالت خراب ہو جائے گی۔ میں نے ان سے کہا کہ تم خدا تعالیٰ پر توکل کرو، انتظار کرو اور دیکھو کہ حالت سدھرتی ہے یا گرتی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ یا تو صدر انجمن احمد یہ کا بجٹ دو اڑھائی لاکھ کی روپیہ کا ہوا کرتا تھا اور یا اس تحریک کے دوران میں چار پانچ لاکھ روپیہ تک جا پہنچا۔ اُدھر میں جماعت نے تحریک جدید کی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا اور خدا تعالیٰ کے دیا