خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 775 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 775

1944ء 775 خطبات محمود اور لاؤڈ سپیکر لگا کر دی گئی ہیں۔ اور اس کی وجہ سے بعض احمد ی جن کے کانوں میں وہ گالیاں پڑی ہیں نہایت ہی جوش میں آگئے اور دوسرے ممبروں کو اُنہیں دبا کر رکھنا پڑا۔ اس کی ذمہ داری گورنمنٹ پر ہے۔ میں حیران ہوں کہ یہ کس طرح کی دوغلی پالیسی ہے کہ باہر تو مثلاً امرتسر میں ہماری جماعت کو پر امن جلسہ کرنے اور باجازت جلسہ کرنے سے روکا گیا جو کسی دوسرے کے جلسہ میں رخنہ انداز نہیں تھا اور آئندہ کے لیے ڈی سی نے کہا ہے کہ میں احمدیوں کا جلسہ غیر معین وقت تک نہیں ہونے دوں گا۔ مگر اس جگہ جہاں عین ہمارے سالانہ جلسہ کے ایام میں دشمن کے جلسہ میں ہمیں غلیظ گالیاں دی گئیں اس کو گورنمنٹ نہیں روکتی۔ قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے اور قادیان میں ہمار ا سالانہ اجتماع عبادت کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص منشاء سے قائم ہوا اور 53 سال سے ہو رہا ہے۔ عین اس اجتماع کے موقع پر گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مخالفین کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ جلسہ کریں اور لاؤڈ سپیکر لگا کر ہمیں گندی گالیاں دیں اور حکام خاموشی سے یہ سب کچھ سنتے رہیں اور اس پر کوئی اقدام نہ کریں۔ میرے نزدیک ایک وحشی اور غیر مہذب گورنمنٹ کے سوا اس حرکت کی اجازت کوئی نہیں دے سکتا۔ اس لیے گورنمنٹ کو چاہیے کہ اُن حکام کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے اس قسم کی صورتِ حالات پیدا ہونے کی اجازت دی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس متضاد پالیسی کی ذمہ داری انگریز افسران پر ہے یا وزراء پر جو کہ اکثر صوبوں میں تقریروں وغیرہ میں تو بہت کچھ کہتے رہتے ہیں لیکن اندرونی طور پر مستقل حکام کی مرضی پر چلتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ احرار کو جو شورش پیدا کرنے کی جرات از سر نو ہو رہی ہے یہ پالیسی وزراء کی ہے یا مستقل حکام کی۔ بہر حال یہ فعل نہایت ناپسندیدہ ہے اور دنیا کا ہر عقلمند اور شریف انسان اس فعل کو ناجائز قرار دے گا اور اس قسم کی رعایت کو بزدلی یا اخلاق کی کمزوری کا نتیجہ سمجھے گا۔ ہم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت صبر اور حوصلہ کی تعلیم پائی ہے اور اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے عمل کرنے کی بھی توفیق بخشی ہے۔ لیکن ہمارا خدا اس بات کو خوب دیکھ رہا ہے۔ یقینا وہ افسر جن کی نرمی اور خاموشی اس صورتِ حالات کی ذمہ دار ہے خواہ وزارت سے تعلق رکھتے ہوں یا مستقل حکام سے