خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 72

1944ء 72 خطبات محمود میں سالہا سال سے کثرت سے مضامین نکل چکے ہیں اور لوگوں نے اس رویا سے پہلے ہی پیشگوئی کی بہت سی باتیں مجھ پر چسپاں کی ہیں۔ اس لیے میں اس وقت چند باتیں جو نہایت اہم ہیں بیان کرتا ہوں۔ اول یہ کہ جب لوگ میرے متعلق کہتے تھے کہ یہ بچہ ہے اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر مجھے کھڑا کیا۔ اس کی طرف بھی پیشگوئی کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا کہ "وہ جلد جلد بڑھے گا " میرے لیے وہ حیرت کا زمانہ تھا۔ بلکہ اب تک میں اپنی اس حیرت کو نہیں بھولا۔ حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا اور مجھے کچھ پتہ نہ تھا کہ جماعت میں کیا جھگڑا ہے۔ کس بات پر فساد اور ہنگامہ برپا ہے۔ جیسے ایک شفاف آئینہ ہر قسم کی میل کچیل اور داغوں سے منزہ ہوتا ہے وہی میرے دل کی کیفیت تھی۔ ہر قسم کے بغض سے پاک ہر قسم کی سازش کے خیالات سے مبرا بلکہ حالات کے علم سے بھی خالی تھا۔ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے کچھ سوالات لوگوں کو جواب لکھنے کے لیے بھجوائے ہوئے تھے اور میں نے بھی ان کے جواب لکھے تھے۔ میں اُس وقت حضرت اماں جان کے کمرہ میں، جو مسجد کے بالکل ساتھ ہے نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ مسجد سے مجھے لوگوں کی اونچی اونچی آوازیں آنی شروع ہو گئیں جیسے کسی بات پر وہ جھگڑ رہے ہوں۔ ان میں سے ایک آواز جسے میں نے پہچانا وہ شیخ رحمت اللہ صاحب کی تھی۔ میں نے سنا کہ وہ بڑے جوش سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک بچہ کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے، ایک بچہ کو آگے کرنے کی خاطر یہ سب فساد برپا کیا جارہا ہے ، ایک بچہ کو خلیفہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مجھے یاد ہے ، میں اُس وقت ان باتوں سے اتنا غافل اور اس قدر نا واقف تھا کہ مجھے ان کی یہ بات سن کر حیرت ہوئی کہ وہ بچہ ہے کون، جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جارہے ہیں۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر دوسروں سے پوچھا کہ آج مسجد میں یہ کیسا شور تھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب یہ کیا کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کو آگے کرنے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے ؟ وہ بچہ ہے کون جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جا رہے تھے ؟ اس پر ایک دوست نے ہنس کر کہا کہ وہ بچہ تم ہی تو ہو ، اور کون ہے ؟ پس میں اُس وقت ان باتوں سے