خطبات محمود (جلد 25) — Page 673
1944ء 673 خطبات محمود طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے۔ انصاف یہ ہے کہ اول تو مالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ اُس جانور کو رکھے۔ جب ساری عمر اس نے کمائی کی ہے تو اب بوڑھا ہونے پر اُسے گھر سے نکال دینا اور اس کی خبر گیری نہ کرنا ہر گز جائز نہیں۔ اور اگر مالک کسی طرح بھی اُس کو رکھنے کے لیے تیار نہ ہو اور حکومت اپنے ہاتھ میں نہ ہو تو پھر ملک کا فرض ہے کہ وہ اُس کی خبر گیری کرے۔ یہ مالداروں پر خصوصاً حق مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے روپیہ میں سے سائل اور محروم دونوں کا خیال رکھیں۔ پانچویں بات تَعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوی تھی۔ یہ فرض بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے سب پر عاید ہوتا ہے۔ لیکن تجارت اور صنعت و حرفت کا کام کرنے والوں پر خصوصاً یہ اہم ترین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تَعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقوی کریں۔ تاجر اور صناع دو ایسے گروہ ہیں کہ اُن کا تعاون بہت وسیع ہو سکتا ہے۔ مثلاً صناع اگر ایسی صورت میں اپنی صنعت و حرفت کو فروغ دیں کہ اُن کی صنعت سے مذہب کو شوکت حاصل ہونے لگ جائے، دین کی شہرت پھیلنے لگ جائے اور سلسلہ کی مضبوطی پہلے سے بڑھ جائے تو یقیناً اُن کی صنعت دین کا ایک حصہ سمجھی جائے گی۔ یا اگر کوئی شخص دو کام کر سکتا ہو اور ان دونوں میں سے ایک کام ایسا ہو جس سے دین کی مدد ہوتی ہو اور دوسرا کام ایسا ہو جس سے دین کی مدد نہ ہوتی ہو تو اُسے بہر حال وہ کام کرنا چاہیے جس سے دین کی مدد ہوتی ہو۔ خواہ اُس میں تھوڑے بہت نفع کا فرق ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ایسا شخص وہ کام اختیار کرتا ہے جس سے دین کی مدد ہوتی ہونا ہو تو وہ یقیناً تو وہ ثواب کا مستحق ہو گا اور اُس کا دنیا کمانا محض دنیا نہیں بلکہ دین کا ایک حصہ ہو گا۔ عام لوگ اِس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ کس طرح بعض تجار تیں دین کے لیے مفید ہو سکتی ہیں اور نہ ان تمام باتوں کو تفصیلاً بیان کرنے کا یہ موقع ہے۔ لیکن ہو تا یہی ہے کہ بعض تجار تیں اور بعض صنعتیں دین کے لیے مفید ہوتی ہیں اور بعض تجار تیں اور بعض صنعتیں دین کے لیے مفید نہیں ہوتیں۔ اور اس کی تفصیل تاجروں اور صناعوں کو بتائی جاسکتی ہے۔ پس اُنہیں صرف اُن تجارتوں اور ان صنعتوں کو ترجیح دینی چاہیے جن سے دین کی تائید ہوتی ہو۔ اسی طرح تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی میں جہاں یہ بات داخل ہے کہ ایسی تجارتیں