خطبات محمود (جلد 25) — Page 595
1944ء 595 خطبات محمود ختم ہو جاتا ہے۔ اُس سے آگے پھر روس کی سرحد افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں سے ٹکراتی ہوئی ان دونوں ملکوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ پھر ایران کی سرحد شروع ہوتی ہے اور وہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ٹر کی کا ملک شروع ہوتا ہے اور روس کی سرحد اُس کے ساتھ ساتھ بھی چلتی ہے۔ اس کے بعد اصلی روسی ملک کے ایک طرف فن لینڈ ہے، پھر پولینڈ ہے، زیکو سلواکیہ اور رومانیہ سے بھی اس کی سرحدیں ٹکراتی ہیں۔ غرض یہ اتنا وسیع ملک ہے کہ دنیا کی آٹھ حکومتوں کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ صرف تھوڑی تھوڑی جگہ سے نہیں بلکہ بڑی لمبائی تک ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اتنے بڑے وسیع ملک کی زبان بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ اس قسم کی چوتھی زبان جرمن ہے۔ اس زبان کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ جرمن بڑے علمی لوگ ہیں۔ ہم ان کے کتنے ہی عیوب بیان کریں مگر اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ جرمن لوگ علوم کو علوم کی خاطر حاصل کرتے ہیں۔ علوم کی خاطر جو جدوجہد جرمنوں نے کی ہے اس کی مثال دوسری قوموں میں نہیں ملتی۔ دوسری قومیں رسوخ اور اثر پیدا کرنے کی خاطر علمی جد و جہد کرتی ہیں مگر جر من لوگ علم کو علم کی خاطر کرتے ہیں۔ اس لیے اعلیٰ علوم کی خاطر جرمن زبان کا جاننا ضروری ہے۔ مثلاً سائنس کے علم میں جرمنوں نے دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ جدو جہد اور بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ اس لیے جب تک جرمن زبان نہ سیکھی جائے سائنس کے اعلیٰ علوم سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یہ زبان بھی بہت اہمیت رکھنے والی ہے۔ پانچویں زبان فرانسیسی ہے۔ یہ زبان اِس لیے اہمیت رکھتی ہے کہ پرانے زمانہ میں یورپ کی عام زبان فرانسیسی تھی۔ جس طرح ہندوستان میں اُردو ہے۔ ہندوستان میں جہاں تامل زبان بولی جاتی ہے وہاں اردو بھی سمجھی جاتی ہے، جہاں اڑ یا زبان بولی جاتی ہے وہاں اُردو بھی سمجھی جاتی ہے، جہاں مرہٹی زبان بولی جاتی ہے وہاں اُردو بھی سمجھی جاتی ہے، جہاں گجراتی زبان بولی جاتی ہے وہاں اردو بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح یورپ کے تمام ممالک انگلستان، اٹلی اور سپین وغیرہ میں جہاں اپنی اپنی زبانیں بولی جاتی ہیں وہاں ساتھ ساتھ فرانسیسی زبان بھی ہے