خطبات محمود (جلد 25) — Page 572
1944ء 572 خطبات محمود رطب اللسان ہوں گے اور وہ اس حقیقت کو بر ملا بیان کر رہے ہوں گے کہ جماعت احمد یہ ایک زندہ جماعت ہے۔ یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں اس وقت تک قریباً بارہ کتابیں ایسی چھپ چکی ہیں جو احمدیت کے متعلق ہیں یا ان کتابوں میں احمدیت کے متعلق کوئی نہ کوئی مضمون لکھا گیا ہے۔ ان سب کتابوں میں یورپین اور عیسائی مصنفین نے اقرار کیا ہے کہ مسلمانوں میں صرف جماعت احمد یہ ہی ایک کام کرنے والی اور ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لینے والی قوم ہے۔ اگر عیسائیت کو آج کسی قوم سے خطرہ ہے تو وہ صرف احمدی قوم ہے۔ اور کسی مذہب یا مذہب کے کسی فرقہ سے عیسائیت کو اتنا خطرہ نہیں جتنا احمدیت سے ہے۔ حالانکہ ہم اپنی جماعت کے جو حالات جانتے ہیں اُن کے لحاظ سے ہم سمجھتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے لحاظ سے ہم دوسروں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ پس جب ہماری تھوڑی سی کوشش، تھوڑی سی قربانی اور تھوڑی سی جد وجہد کے بعد دنیا پر اس قدر رعب پڑ سکتا ہے تو اگر ہماری ساری جماعت منظم ہو جائے، اگر ہماری جماعت کے نوجوان بھی اور بوڑھے بھی اور بچے بھی اپنی اندرونی اصلاح کرنے کے بعد بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں تو غور کرنا چاہیے ہمارے اِس رُعب میں کتنا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یقیناً موجودہ رُعب سے ہزاروں گنا رُعب ہماری جماعت کا ہو سکتا ہے۔ اور موجودہ تعداد سے ہزاروں گنا تعداد ہماری جماعت کی بڑھ سکتی ہے۔ اور نہ صرف رُعب اور تعداد کے لحاظ سے ہماری جماعت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ہم موجودہ کام سے ہزاروں گنا گنا زیادہ کام کر کے دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔ اب بھی ہماری یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم کمزور ہیں، ہمارے پاس سامان نہیں ، ہمارے پاس دولت اور طاقت نہیں ہے پھر بھی بعض ممالک میں احمدیت کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔ مثلاً! افریقہ ایک بہت بڑا بڑا عظم ہے۔ اُس کا مغربی حصہ نصف بڑا عظم ہے۔ اس نصف بڑا عظم میں ہمارا تبلیغ کرنا ایسا ہی ہے جیسے روس کے کنارہ سے جاپان تک کے علاقہ کو تبلیغ کی جائے۔ ہمارے اس وسیع علاقہ میں صرف چار مبلغ کام کر رہے ہیں۔ مگر ان چار مبلغوں کی تبلیغ کے نتیجہ میں افریقہ کے سارے کنارے میں ایک دھوم مچی ہوئی ہے۔ ہزار ہا لوگ ہیں جو احمدیت قبول کر چکے ہیں۔ گورنمنٹ ہے تو اُس پر جماعت کا اثر ہے اور یورپین مصنفین کھلے بندوں تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائیت کے مقابلہ میں