خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 55

1944ء 55 خطبات محمود میں انہیں تبلیغ کر رہا ہوں تا کہ باقی لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب میں نہیں رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جارہی ہیں۔ جیسے خطبہ الہامیہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا۔ غرض میر اکلام اُس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ بند ہے میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔ بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا، غالباً کا لفظ میں نے اس لیے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہو۔ ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے با اثر اور مفید وجو د تھا، بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اس کا اسلامی نام عبدالشکور رکھا ہے۔ میں اس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے میں اب آگے جاؤں گا اس لیے اے ہے عبدالشکور ! تجھ کو میں اس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔ تیرا فرض ہو گا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹادے اور تیرا فرض ہو گا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے۔ میں واپس آکر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سر انجام دہی کے لیے مقرر کیا ہے ان کو تو نے کہاں تک ادا کیا ہے۔ اس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تیر افرض ہو گا کہ ان لوگوں کو سکھائے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا اسے حکم دیتا ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں۔ جس وقت میں یہ تقریر کر رہا ہوں (جو خود الہامی ہے ) یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذکر پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا الْمَسِيحُ المَوْعُودُ۔ اس کے بعد میں ان کو اپنی ہے