خطبات محمود (جلد 25) — Page 548
1944ء 548 خطبات محمود اس لیے ہمزہ کی جگہ "ی" بولتے ہیں اور لا یله یلا اللہ کہتے ہیں۔ اُس کشتی والوں نے جب زور لگایا اور پھر بھی کشتی نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ کیونکہ نہر نیچی اور ڈل اونچا تھا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ معمولی طریقوں سے کام نہیں بنے گا۔ تب اُنہوں نے شاہ زین الدین صاحب کو پکار نا شروع کیا اور ان کا نعرہ لگا کر زور لگانا شروع کیا۔ کشتی میں جو آدمی بیٹھے تھے اس نعرہ کے ساتھ ہی اُن میں سے دو تین چھلانگ لگا کر باہر آ گئے اور اُنہوں نے رشوں سے پکڑ کر کشتی کو کھینچنا شروع کیا مگر ڈل اور نہر کے پانی کا فرق چونکہ زیادہ تھا اس لیے باوجود اس قدر کوشش کے بھی وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ جب اس طرح بھی کام نہ بنا تو پھر جتنے مرد کشتی میں بیٹھے تھے سارے کود کر باہر آگئے اور انہوں نے لا يله يلا الله ، لا يله يلا الله کہہ کر بے تحاشا زور لگانا شروع کیا مگر پھر بھی کشتی اوپر نہ چڑھ سکی۔ تب اُنہوں نے پیر دستگیر کو پکار ناشروع کیا اور یا پیر دستگیر کا نعرہ لگانا شروع کیا اور اس موقع پر بچوں اور عورتوں نے بھی کشتی میں سے گود کر اس طرح زور لگانا شروع کیا کہ کشتی کو نکال کر لے گئے۔ میں نے کہا ان کے دل میں جس ہستی کی سب سے زیادہ عزت تھی اُس کی خاطر انہوں نے اپنی ساری طاقت صرف کر دی۔ زین الدین کی عزت کم تھی اس کے لیے تھوڑے آدمیوں نے زور لگایا۔ اللہ تعالیٰ کی عزت اُس سے زیادہ تھی اس کے لیے سارے مرد نیچے اُتر آئے اور انہوں نے اپنی طاقت صرف کی۔ پیر دستگیر کی عزت سب سے زیادہ تھی اس کے لیے بچے اور عور تیں بھی کود پڑے اور اُن سب نے مل کر اپنی ساری طاقت خرچ کر دی اور کشتی کو کھینچ کر لے گئے۔ یہ نظارہ دیکھ کر میں نے کہا کہ چاہے ہم ان کو مشرک اور پیر پرست کہیں مگر جس وجود کی سب سے زیادہ عزت اِن کے دل میں تھی اُس کے نام پر انہوں نے کام کر کے دکھا دیا۔ اب تم غور کرو کہ اگر ایک مومن اور موحد خدا کا نام لے کر ایک کام کرے اور پھر اپنا سارا زور نہ لگائے تو یہ کتنے شرم کی بات ہو گی۔ اگر دستگیر کی عزت اور محبت اپنے دل میں رکھنے والے دستگیر کا نعرہ لگا کر اپنی تمام طاقت صرف کر دیں اور ان کے بچے اور ان کی عورتیں عور تیں بھی اپنا سارا زور لگا دیں تو ایک مومن اور موحد کہلا کر اور یہ اعلان کر کے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ کام کرنے کے لیے کہا ہے پھر اگر ہم خدا تعالیٰ کے نام پر اپنا سارا زور نہ لگائیں اور مرد اور