خطبات محمود (جلد 25) — Page 544
1944ء 544 خطبات محمود احمدیوں کی دلد ہی 3 کی پروا نہیں کرتی۔ کیونکہ ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ دوسروں کو ناراض کر کے وہ احمدیوں کے مفاد کا خیال رکھنے اور ان کی دلداری کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 1917ء کا واقعہ ہے میں نے شملہ یاد ہلی میں چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب کو کمانڈر انچیف کے پاس ایک کیس کے سلسلہ میں بھیجا۔ کیس یہ تھا کہ ایک احمدی پر فوج میں سختی کی گئی اور پھر باوجود یہ تسلیم کر لینے کے کہ قصور اُس کا نہیں، فوج سے بلاوجہ نکال دیا گیا تھا۔ اس کیس کے متعلق بات کرنے کے لیے میں نے چودھری صاحب کو کمانڈر انچیف کے پاس بھیجا۔ چودھری صاحب نے اُس سے جا کر کہا کہ دیکھیے کتنے ظلم کی بات ہے کہ ظلم کی بات ہے کہ جس شخص کے متعلق یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور مظلوم ہے اُس کو بلا وجہ فوج سے نکال دیا گیا۔ گیا ہے۔ حالانکہ ہماری جماعت ایسی ہے جو ملک کی خدمت کے لیے کام کرتی ہے روپیہ کی غرض سے نہیں۔ کمانڈر انچیف ساری بات سننے کے بعد کہنے لگا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی جماعت ملک کی خدمت کی خاطر فوج میں کام کرتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس جماعت کے اندر حُب الوطنی کا جذبہ پایا جاتا ہے اور اسی جذبہ کے ماتحت یہ جماعت کام کرتی ہے روپیہ کی خاطر کام نہیں کرتی۔ تنخواہ تو ہمارے انگریز بھی لیتے ہیں مگر وہ تنخواہ کی خاطر کام نہیں کرتے بلکہ ملک اور قوم کی خاطر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ کی جماعت بھی روپیہ کی خاطر کام نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ ملک کی خدمت کرے۔ اور میں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں کہ دوسروں پر اتنا اعتماد نہیں کیا جا سکتا جتنا کہ آپ کی جماعت پر ہمیں اعتماد ہے لیکن ایک بات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ اس کا جواب دیں۔ اور وہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی حفاظت کے لیے اس وقت اڑھائی تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آپ کے ایک آدمی کی خاطر اور اس کے حق بجانب ہونے کی بناء پر دوسروں کو خفا کر لیں اور وہ ناراض ہو کر کہہ دیں کہ ہم فوج میں کام نہیں کرتے ہمیں فارغ کر دیں تو کیا آپ کی جماعت آپ کی جماعت اڑھائی تین لاکھ فوج ملک کی حفاظت کے لیے مہیا کر کے دے سکتی ہے؟ اگر یہ ممکن ہے تو پھر آپ کی بات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر یہ بات آپ کے نزدیک بھی نا ممکن ہے تو بتائیے ہم آپ کی جماعت کی دلداری کی خاطر سارے ہندوستان کی حفاظت کو کس طرح نظر انداز