خطبات محمود (جلد 25) — Page 531
1944ء 531 خطبات محمود - پھیل نہ جائے اور جب تک تمام دنیا کے لوگ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے لیے صرف سال میں ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ سال میں بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں ۔ ہماری مثال بالکل اُس بزرگ کی سی ہے جس سے کسی نے پوچھا زکوۃ کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کے لیے چالیس روپوؤں پر ایک روپیہ زکوۃ ہے اور میرے لیے چالیس رپوؤں پر اکتالیس روپے زکوۃ ہے ۔ کیونکہ عام لوگوں کے لیے عام حکم ہے مگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہے کہ میری ساری ضرورتیں وہ خود پوری کرتا ہے اور اُس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تیری تمام ضرورتوں کا کفیل ہوں۔ اگر باوجود اس کے میں روپیہ جمع کروں تو وہ روپیہ میں ناجائز حالت میں جمع کروں گا جو مجھے واپس کرنا چاہیے اور ایک روپیہ جرمانہ کا ادا کرنا چاہیے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے وعدہ کے میں نے اپنی ضرورتوں کے لیے خود انتظام کیا۔ یہی حال ہمارا ہے ۔ لوگوں کے لیے بارہ مہینوں میں سے صرف ایک مہینہ رمضان یعنی روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے سارا سال ہی روزوں کا ہونا چاہیے اور ہماری ساری زندگی رمضان کی طرح بسر ہونی چاہیے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ سارا سال ہی روزے رکھے جائیں۔ یہ تو منع ہے کہ کوئی شخص تمام سال روزے رکھتا رہے۔ میر ا مطلب یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے لیے اپنے نفس کو خدا کے احکام کے تابع کر کے ضروری اور جائز چیزوں کو بھی حرام اور غیر ضروری قرار دینا ہو گا۔ پس ہمارے لیے بارہ مہینے ہی رمضان ہے اور شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ 3 میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ انبیاء کی بعثت کے زمانہ میں ان کے ماننے والوں کے لیے بارہ مہینے ہی بلکہ ساری زندگی ہی رمضان میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے بارہ میں سے صرف ایک مہینہ روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے بارہ مہینوں میں سے بارہ ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ کیونکہ جس وقت خدا کا کلام نازل ہوتا ہے تو وہ روزوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس طرح کہ قرآن مجید کے متعلق خدا تعالیٰ