خطبات محمود (جلد 25) — Page 529
خطبات محمود 529 1944ء خدا تعالیٰ انبیاء کے زمانہ میں عجیب تضاد پیدا کر دیتا ہے کہ انبیاء اپنی بعثت کے زمانہ میں ایک طرف تو حرام کو حلال کر دیتے ہیں جیسے خدا کا کلام کرنا، اُس کا دیدار نصیب ہونا۔ ان چیزوں کو اُن کی بعثت سے پہلے لوگ حرام سمجھتے ہیں۔ انبیاء آکر نئے سرے سے اِن کو جائز کر دیتے دیتے ہیں ہیں۔ دوسری طرف انبیاء آکر حلال کو حرام کر دیتے ہیں۔ وہی چیزیں جو بعد میں یا پہلے جائز ہوتی ہیں دین کے مطالبات کے ماتحت حرام ہو جاتی ہیں۔ ہزاروں دفعہ مومنوں کی جماعت کو کھانا پینا، اپنی جائیداد، عمدہ جذبات، خواہش اور وطن جس کی محبت کو رسول کریم ، ﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کی علامتوں میں سے بیان فرمایا ہے 1 اِن سب چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مومن ایسانہ کرے تو اُس کا ایمان باطل ہو جاتا ہے۔ گو یا انبیاء ایک طرف تو حرام چیزوں کو حلال کر دیتے ہیں اور جن چیزوں سے دنیا محروم ہوتی ہے وہ اُن کو نئے سرے سے لے آتے ہیں اور دوسری طرف جو چیزیں ضروری اور جائز ہوتی ہیں اُن کو حرام کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں اور اس کے مطابق جائز حقوق اور جائز چیزوں کو دین کے مطالبات کے ماتحت چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ ایمان کی حد سے نکل جاتا ہے۔ وطن کی محبت ایمان میں شامل ہے لیکن خدا تعالیٰ بعض دفعہ ہجرت کا حکم فرماتا ہے اور وطن کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہو امارا جائے وہ شہید ہے ۔ 2 لیکن دین کے مطالبات کے ماتحت اس مال کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ پس جو چیز دوسرے وقت میں ایمان میں شامل ہوتی ہے نبی کے وقت میں کے وقت میں وہی چیز دین کے مطالبات کے ماتحت حرام اور قطعی حرام ہو جاتی ہے اور اگر کوئی شخص پھر بھی اُس کو لینے کی خواہش کرے تو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔ پس انبیاء آکر کچھ تو کی حرام حصہ کو حلال کر دیتے ہیں اور کچھ حلال حصہ کو حرام کر دیتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہونا کر دیتے ہیں اور اگر ایسانہ ہو تو کبھی حقیقی ایمان کا نمونہ قائم نہ ہو سکے۔ ہماری جماعت کے آدمی بھی بعض دفعہ لڑ پڑتے ہیں کہ ہمارا یہ حق مارا گیا اور ہمارا وہ حق نہیں ملا۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ انبیاء کے زمانہ میں حقوق تلف کرنے میں ایمان تلف کرنے میں ایمان ہوتا ہے۔ جو شخص و شخص اپنا مال، اپنی دولت ، اپنا آرام و آسائش، اپنے جذبات، اپنی خواہش،