خطبات محمود (جلد 25) — Page 522
1944ء 522 خطبات محمود ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کو ولایت یا امریکہ باہر کسی جگہ تبلیغ کے لیے بھیج دیا جائے تو وہ مفید نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اول تو ان کی عمر کا وہ حصہ گزر چکا ہے جس میں ان کو مبلغ بننے کے لیے ٹرینڈ کیا جائے اور دوسرے وہ خود اور ان کے بیوی بچے پانچ پانچ، چھ چھ سو یا ہزار ہزار روپے میں گزارہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اب اگر ان کو بیس پچیس روپے دیے جائیں تو اس میں وہ گزارہ نہیں کر سکتے۔ یہ ایسی چیز ہے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ایسے موقع پر اپنے آپ کو وقف کرنے والے لوگ کہیں اپنا پہلا ایمان بھی نہ کھو بیٹھیں۔ اگر اس قسم کے واقفین کو نکال دیا جائے تو باقی واقفین کی تعداد سو ڈیڑھ سورہ جاتی ہے۔ باقی یا تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بغیر سوچے سمجھے پیش کر دیا ہے اور اُن کو وقف کی حقیقت کا بالکل علم نہیں۔ اس قسم کے واقفین میں سے ایک شخص کی چٹھی آئی کہ میں اپنے آپ کو وقف کرتا ہوں مگر یہ بتائیے تنخواہ کیا ملے گی ؟ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر انگریزوں نے کشمیر کے راجہ سے کہا کہ تم بھی ہماری مدد کے لیے فوج بھیجو۔ چنانچہ راجہ نے افسروں کو حکم دیا کہ فوج تیار کرو۔ افسروں نے فوج سے جا کر کہا کہ تم سر کار کا نمک کھاتے رہے ہو ، اب لڑائی کا موقع ملا ہے تمہارا فرض ہے کہ حق نمک ادا کرو۔ تمہیں انعام ملیں گے اور عزت بھی بڑھ جائے گی۔ اس کے بعد پھر افسروں نے راجہ سے درخواست کی کہ ہم ایک ضروری بات عرض کرنا چاہتے ہیں۔ راجہ نے اجازت دی اور اُن کشمیری فوجی افسروں نے آکر عرض کیا کہ حضور ! فوج تیار ہے اور فوج کے سب لوگ خوش ہیں کہ انہیں لڑنے کا موقع ملا ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ پٹھانوں سے لڑائی ہے اور وہ بہت سخت ہوتے ہیں اس لیے ہمارے ساتھ مضبوط پہرہ کا انتظام کیا جائے ۔ اسی طرح واقفین کا حال ہے کہ بار بار خطبے سنتے اور پڑھتے ہیں، وقف کی شرائط اور فارم چھپے ہوئے ہیں۔ اُن میں لکھا ہوا ہے کہ وقف کرنے والا یہ عہد کرے کہ میں بغیر کسی معاوضہ کے دین کا کام کروں گا اور اگر سلسلہ کی طرف سے مجھے کچھ دیا جائے گا تو میں اُس کو خدا کا احسان سمجھوں گا۔ لیکن بعض واقف ایسے ہیں کہ اپنے آپ کو وقف کے لیے پیش تو کرتے ہیں لیکن جب ان کو بلایا جائے تو کہتے ہیں یہ بتائیے تنخواہ کیا ملے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ کانوں میں روئی ٹھونس کر خطبہ سنتے ہیں اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر شرائط