خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 507

1944ء 507 خطبات محمود دوسری کے بعد تیسری چیز کا اور تیسری کے بعد چوتھی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ مخلوق کی جزئیات کا علم ہوتے ہوتے انسان خدا تعالیٰ تک معرفت پیدا کر تا جاتا ہے۔ ایک ادنیٰ سے ادنی انسان بھی اگر غور کرے تو اُس کے لیے بھی خدا تعالیٰ کی ہستی کی دلیل موجود ہے۔ جیسے ایک اعرابی سے کسی نے پوچھا کہ تم خدا کو کیوں مانتے ہو، اُس کے موجود ہونے کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟ تو وہ ہنس پڑا کہ میں اتنا پاگل تو نہیں ہوں کہ خدا کو بھی نہ پہچان سکوں۔ بکریوں کی مینگنیاں راستہ میں پڑی ہوئی ہوتی ہیں تو میں ان کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہوں کہ یہاں سے بکری گزری ہے، اونٹ کا پاخانہ پڑا ہوا ہو تو اُسے دیکھ کر میں سمجھ لیتا ہوں کہ اِدھر سے اونٹ گزرا ہے۔ تو کیا اتنی وسیع دنیا کو دیکھ کر میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک خدا موجود ہے جو اس ساری دنیا کا خالق اور اس نظام کا پیدا کرنے والا ہے ؟ یہ ایک بسیط علم ہے جس پر فلسفیوں نے اعتراض کیا ہے کہ آخر اتفاقات بھی تو ہوتے ہیں؟ اس لیے خالی زمین و آسمان کی پیدائش اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ ان کا کوئی خالق ہے۔ بعض چیزیں اتفاقاً ہو جاتی ہیں۔ ہم روز مرہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بات اتفاقاً ہو جاتی ہے اور تمام لوگ کہتے ہیں کہ یہ اتفاقی بات ہے۔ قرآن مجید نے فلسفیوں اور مفکرین یورپ کے اس اعتراض کی تردید میں یہ دلیل دی ہے کہ خالی اس دنیا کا وجود بیشک خدا تعالیٰ کے خالق ہونے کی مکمل دلیل نہیں اور تم اس کو اتفاقی کہہ سکتے تھے مگر اس تمام عالم میں ایک ترتیب کا پایا جانا اور ہر ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ جوڑ موجود ہونا اور ہر ایک چیز اور اُس کے ایک ایک ذرہ میں حکمت کا پایا جانا یہ سب کچھ اتفاقی نہیں۔ بلکہ اس دنیا کی ترتیب اور ہر ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ جوڑ اور ہر ایک ذرہ کی حکمت یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اِس سارے نظام اور ساری دنیا کا پیدا کرنے والا خدا موجود ہے جس نے حکمت کے ماتحت اس ساری دنیا کو پیدا کیا ہے۔ انسان کی آنکھ پیدا کی جس میں دیکھنے کی طاقت رکھی تو اس کے مقابل میں سورج کے اندر روشنی پیدا کی جس کے ذریعہ سے انسان دیکھتا ہے۔ ناک پیدا کی جس سے انسان سونگھتا ہے تو اس کے مقابل میں خوشبو پیدا کی۔ کان پیدا کیا جس سے انسان سنتا ہے تو اس کے مقابل میں ہوا میں یہ خصوصیت رکھی رکھی کہ وہ جنبش کرتی ہے اور اُس کے ذریعہ سے کان تک آواز پہنچتی ہے۔ اب کیا