خطبات محمود (جلد 25) — Page 50
1944ء 50 خطبات محمود جب انہوں نے اس کی بعض تفصیلات بیان کیں تو اُس وقت مجھے یاد آگیا۔ تو یہ میری عادت نہیں ہے کہ میں رؤیاء و کشوف بیان کروں لیکن چونکہ اس رویا کا تعلق بعض اہم امور سے ہے۔ نہ صرف ایسے امور سے جو کہ میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ایسے امور سے بھی جو بعض سابق انبیاء کی ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ صرف وہ بات سابق انبیاء ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ آئندہ رونما ہونے والے دنیا کے اہم حالات سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس لیے میں مجبور ہوں کہ اُس رؤیا کا اعلان کروں اور میں نے اس کے اعلان سے پہلے خدا تعالیٰ سے اس بارہ میں دعا بھی کی ہے اور استخارہ بھی کیا ہے تاکہ کی اس معاملہ میں مجھ سے کوئی بات خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے خلاف نہ ہو۔ وہ رویا یہ تھا کہ میں نے دیکھا میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں کچھ عمار تیں ہیں۔ نا معلوم وہ گڑھیاں 1 ہیں یاٹر نچر 2 ہیں۔ بہر حال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کی کے لوگ ہیں یا یو نہی مجھے ان سے تعلق ہے میں ان کے پاس ہوں۔ اتنے میں مجھے معلوم ہو تا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں بر سر پیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اس نے اس مقام پر حملہ کر دیا ہے۔ اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اس جگہ کی فوج نے پسپا ہو نا شروع کر دیا۔ یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی اس کا مجھے اُس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔ بہر حال وہاں جو فوج تھی اس کو جرمنوں سے دبنا پڑا اور اُس مقام کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جر من اس عمارت میں داخل ہو گئے جس میں میں تھا۔ تب میں خواب میں کہتا ہوں دشمن کی جگہ پر رہنا درست نہیں اور یہ مناسب نہیں کہ اب اس جگہ ٹھہرا جائے یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہیے۔ اُس وقت میں رویا میں صرف یہی نہیں کہ تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں۔ میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہیں اور جب میں نے دوڑ نا شروع کیا تو رویا میں مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میں انسانی مقدرت سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑ رہا ہوں اور کوئی ایسی زبر دست طاقت مجھے تیزی سے لے جا رہی ہے کہ میلوں میل ایک آن میں طے کرتا