خطبات محمود (جلد 25) — Page 481
1944ء 481 خطبات محمود اگر روحانی مراد ہے تو وہ اس قسم کا معاہدہ کریں کہ امانت، عدل اور انصاف کو قائم کریں گے۔ شروع میں ہر چیز کی بنیاد چھوٹی ہوتی ہے مگر پھر اُسی پر بڑی عمارت تیار ہوتی ہے۔ ابتدا میں ہر چیز قلیل ہوتی ہے اور پھر اُس سے ترقی کرتے کرتے بڑی بنتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مادے جن کو نیو کلمیں (Neuclious) کہتے ہیں شروع میں باریک ذرے ہوتے ہیں جو بعد میں ترقی کرتے کرتے اربوں ارب ٹن کے اجرام بن جاتے ہیں جن کے سامنے زمین بھی ذرہ معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہی چیز پہلے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو غبار میں حرکت کرتے رہتے ہی ہیں اور پھر چکر کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ درمیان میں گریوٹی (Gravity) پیدا ہو جاتی ہے اور چکر کھاتے کھاتے اور ذرّے اُس کے ساتھ چمٹتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک گولا بن جاتا ہے۔ اسی طرح بڑھتے بڑھتے جب وہ گیند کے برابر ہو جاتا ہے تو اُس کے اندر اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب فٹ بال کے برابر ہو جاتا ہے تو اُس کے اندر اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے جزیرہ بن جاتا ہے۔ پھر اور کشش ہوتی ہے۔ ادھر سے چکر اُدھر سے کشش۔ لازمی بات ہے کہ جب کسی چیز کے اندر چکر پیدا ہو تو وہ کچھ چیزوں کو اپنے اندر کھینچتی ہے اور کچھ چیزوں کو باہر پھینکتی ہے۔ آخر اسی طرح کشش اور چکر کے نتیجہ میں زمین تیار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر چند مومن اس کام کے لیے کھڑے ہو جائیں کہ آئندہ ہم نہ کسی کا حق ماریں گے اور نہ مارنے دیں گے ۔ تو خدا کے نزدیک وہ اس زمانہ کے آدم ہوں گے امانت کے ، آدم ہوں گے دیانت کے ، آدم ہوں گے عدل و انصاف کے۔ اگر میری اولاد کو خدا تعالی یہ توفیق دے تو وہ یہ عہد کریں کہ جہاں کہیں بھی انہیں یہ معلوم ہو کہ کوئی کسی کا حق مار رہا ہے تو وہ اُس کو سمجھائے اور کسی کا حق مارنے سے اُسے روکے۔ اس سے اپنی بھی اصلاح ہوتی ہے کیونکہ اگر منع کرنے والے شخص کے اپنے اندر یہ نقص ہو گا تو جب وہ دوسرے کو منع کرے گا تو وہ اُسے پکڑے گا کہ تو نے فلاں شخص کا حق مارا تھا۔ تو اس طرح انسان کو اپنے نقص کا پتہ لگتا رہے گا۔ یا اگر وہ مراد نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ روحانی اولاد کو توفیق دے دے کہ وہ یہ عہد کریں کہ ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے اور جہاں پتہ لگے گا کہ کوئی کسی کا حق مار رہا ہے ہم وہاں جا پہنچیں گے اور خواہ کوئی ہم سے پوچھے یا نہ پوچھے ہم ضرور اُس میں دخل دیں گے کہ اُس کا حق کی