خطبات محمود (جلد 25) — Page 399
1944ء 399 خطبات محمود اس زمانہ میں عرب نہیں بلکہ دوسرے ممالک ہیں اور خصوصاً ہندوستان ہے کیونکہ ہندوستان ہی اس زمانہ میں سب مشہور مذاہب کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دوسرے ممالک میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ مثلاً مصر ہے۔ وہ اتنا دور ہے ہندو مذہب سے اور وہ اتنا دور ہے ہندو تہذیب سے کہ وہاں ہندو دھرم کی اسلام سے جنگ نہ ہو سکتی تھی۔ اسی طرح مصر اتنا دور ہے بدھ مت سے اور اتنا دور ہے بدھ تہذیب سے کہ وہاں اسلام اور بدھ مت کا مقابلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بے شک بعض اور ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اسلام کی غیر مذاہب سے جنگ ہو سکتی تھی مگر وہاں بھی سارے ادیان سے نہیں ہو سکتی تھی۔ ایسی جنگ صرف ہندوستان میں ہی ہو سکتی تھی اور ہو رہی ہے۔ یہاں عیسائیت موجود ہے کیونکہ حکمران عیسائی ہیں۔ یہاں یہودی قوم کی بھی پرانی نسل اور کئی نئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ چونکہ ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور زرخیز اور تجارتی ملک ہے اور یہودی تجارت پیشہ لوگ ہیں اور بڑے بھاری شجار ہیں اس لیے وہ ہندوستان میں آئے اور یہاں بس گئے۔ اسی طرح زرتشت مذہب بھی بحیثیت قوم ہندوستان میں پایا جاتا ہے اور صرف ہندوستان میں ہی پایا جاتا ہے۔ سیر و سیاحت کے لیے اس مذہب کے لوگ کسی اور ملک میں چلے جائیں تو اور بات ہے مگر بحیثیت قوم یہ مذہب ہندوستان میں ہی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح قدیم مذاہب میں سے ہندو دھرم ہے اور ہندوستان اِس کا مرکز ہے۔ پھر جین مت ہے اس کا مرکز بھی ہندوستان میں ہی ہے۔ پھر بدھ مت ہے اس کا مرکز بھی ہندوستان ہی ہے۔ گو اور علاقوں کی طرف یہ مت ہندوستان کی نسبت زیادہ پھیل گیا ہے مگر ہندوستان کے ساتھ پہلے برما بھی شامل تھا اور برما میں اس مذہب کا بہت بڑا مر کز ہے۔ پس ہندوستان دنیا کے تمام معروف اور قدیم مذاہب کا یا تو مرکز ہے یا وہ کسی نہ کسی وجہ سے ہندوستان میں جمع ہو گئے ہیں۔ ہندو دھرم، بدھ مت، جین ازم اور پارسی مذاہب کا تو ہندوستان مرکز ہے۔ عیسائی گو یہاں کثرت سے نہیں لیکن ان کے حاکم ہونے کی وجہ سے یہ مذہب بھی ہندوستان میں آگیا۔ یہودی چونکہ تاجر لوگ ہیں وہ تجارت کی وجہ سے ہندوستان میں آگئے۔ اسلام تو ہندوستان میں ہے ہی۔ غرض جو مذاہب پرانی تہذیبوں کے مدعی ہیں یا مدعی ہیں یا دوسروں پر اپنی فوقیت کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ ہندوستان میں موجود ہیں۔ گویا بہت سے تو ایسے ہی