خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 369

1944ء 369 خطبات محمود کے ذریعہ اسلام کو ایک نئی زندگی اور نئی حیات بخشنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پس چاہے اس کو کوئی شکل دے دو، چاہے اس کا کوئی نام رکھ لو بہر حال یہ ایک جہاد ہے جو اسلام کے احیاء کے لیے لیے جاری جاری ہے اور ہر شخص کا فرض ہے کہ اس جہاد میں شامل ہو۔ اگر کسی وقت نظام سلسلہ کی طرف سے کسی شخص کو اِس جہاد میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو وہ گنہگار نہیں۔ لیکن اگر کسی با شخص کو بلایا جاتا ہے اور بلایا بھی ایسی صورت میں جاتا ہے جب وہ طوعی طور پر اپنا نام پیش کر چکا ہوتا ہے اور اُسے کہا جاتا ہے کہ فلاں وقت حاضر ہو جاؤ تو اس کے بعد اگر وہ مقررہ وقت پر پہنچنے میں ایک منٹ کی بھی دیر کر دیتا ہے تو وہ باغی ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اُسے جماعت سے خارج کر دیا جائے۔ اُسی وقت وقف زندگی کے عہد میں ان کی سنجیدگی سمجھی جاسکتی تھی جب فرض کرو قادیان ایک پہاڑی مقام پر ہوتا اور اُس کے چاروں طرف برف جمی ہوئی ہوتی جس پر چلنا مشکل ہوتا مگر پھر بھی مرکز کی طرف سے اعلان ہونے پر اپنی زندگی وقف کرنے والے پیٹوں کے بل گھسٹتے ہوئے اور اپنے ناخن زمین میں گاڑتے ہوئے یہاں تک پہنچ جاتے۔ تب بے شک ان کو مومن سمجھا جا سکتا تھا۔ تب بے شک کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا۔ مگر موجودہ صورت تو ایسی ہے جو کسی حالت میں بھی قابلِ عفو نہیں۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ جب مہدی آئے گا اُس وقت اگر تمہیں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے بھی اس کے پاس جانا پڑے تو جاؤ اور اس کی آواز پر لبیک کہو ۔ 4 اس حدیث کے معنے در حقیقت یہی ہیں کہ جب تمہارے کان میں مہدی کی طرف سے آواز آئے تو تم اس جوش کے ساتھ اُس آواز پر لبیک کہو اور اس طرح پروانہ وار اُس کی طرف بھا گو کہ رستہ ہونے یا نہ ہونے کا کوئی سوال ہی تمہارے سامنے نہ ہو۔ جب وہ دعوای کرے اس وقت تمہیں راستہ ملے ، یا نہ ملے تمہیں گھٹوں کے بل چلنا پڑے یا پیٹ کے بل، تم اُس کے پاس پہنچو۔ بلکہ اگر تمہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے بھی گزرنا پڑتا ہے تو تم اس بات کی پروا مت کرو۔ اگر تمہیں پھسلنا پڑتا ہے تو اپنے پھسلنے کی پروا نہ کرو اور جلد سے جلد اُس کے پاس پہنچ جاؤ۔ میں دفتر تحریک جدید کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فورا ایسے لوگوں کے نام