خطبات محمود (جلد 25) — Page 360
1944ء 360 خطبات محمود اور جہاں خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ سچ بات بیان کرو وہاں کبھی جھوٹ نہ بولو۔ اور یہ عہد کر لو کہ جب بھی کوئی بات بیان کرنے کا موقع آئے گا، سچ بیان کرو گے ، جھوٹ کبھی نہ بولو گے ۔ سچ بولنا ایسا مشکل ہو گیا ہے کہ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص نے وصیت کی ہے اور ہم سے اُس کی تصدیق مانگی گئی ہے ہم کیا لکھیں؟ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر سچی بات لکھی تو وہ شخص دشمن ہو جائے گا۔ وہ انسان کی دشمنی سے ڈرتے ہیں خدا تعالیٰ بے شک دشمن ہو جائے اس کی پروا نہیں۔ جب قوم میں سچ بولنے کی عادت ہو جائے گی تو بہت سے نقائص خود بخود دور ہو جائیں گے۔ جب ایک شخص کو معلوم ہو گا کہ اگر میں نے دوسرے کو گالی دی تو میرا باپ یا میر ابھائی جو بھی موقع پر موجود ہے میرے خلاف گواہی دے دے گا تو وہ گا دوسرے کو گالی دینے سے پہلے ضرور سوچ لے گا کہ میں سزا سے نہیں بچ سکوں گا اور اس طرح گالیاں دینے کی عادت خود بخود ترک ہو جائے گی۔ اسی طرح کسی کو مارنے والے کو جب یہ احساس ہو گا کہ میرے اپنے عزیز اور دوست بھی میرے خلاف گواہی دے دیں گے تو وہ اسی صورت میں مارے گا کہ جب وہ سمجھتا ہو گا کہ مجھے خود قاضی کے سامنے جا کر ماننا پڑے گا کہ میں نے مارا ہے اور اس طرح میں خود بھی مار کھاؤں گا۔ تو سچ سے سب قومی اخلاق درست ہو سکتے ہیں۔ پس سچ کو اپنے اندر قائم کرو۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہر شخص دیانتدار ہو اور دیانت پر قائم رہنے کا عہد کرے۔ کسی کا روپیہ کسی کے پاس امانت ہے اُسے بروقت ادا کرنا بہت ادنی درجہ کی دیانت ہے۔ مگر بہت لوگ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے کا پیسہ کھینچا جا سکے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ میرا کوئی پیسہ کسی کے پاس چلا جائے تو بے شک چلا جائے کسی کا میری طرف نہ رہے۔ صحابہ کرام نے اگر تھوڑے ہی عرصہ میں عظیم الشان ترقیات حاصل کیں اور دلوں کو موہ لیا تو اِسی لیے کہ اُن میں دیانت تھی۔ مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کیا۔ مگر بعد میں اسے خالی کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسلامی کمانڈر نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ اپنا عقب محفوظ کرنے کے لیے بار برداری کے راستہ کو چھوٹا کر نا ضروری ہے اس لیے یروشلم کو چھوڑ ناضروری ہے۔ مگر ان لوگوں سے ہم ایک سال کا ٹیکس اس وعدہ پر وصول کر چکے ہیں کہ ان کی حفاظت کریں