خطبات محمود (جلد 25) — Page 352
1944ء 352 خطبات محمود دوسرے سال کے برابر اور انیسویں سال پہلے سال کے برابر چندہ دینا ضروری ہو گا۔ سوائے اس کے کہ کوئی فوت ہو جائے۔ جس طرح پہلے دور میں یہ شرط تھی کہ اگر کوئی پہلے سال میں شامل ہوا اور پھر فوت ہو گیا تو اسے آخر تک شامل ہی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ وہ اسی نیت سے شامل ہوا تھا کہ آخر تک شامل رہے گا۔ اسی طرح اس دور میں ہو گا کہ جو شخص ایک سال یا چند سال شامل ہونے کے بعد فوت ہو جائے تو اُس کا شمار آخر تک شامل ہونے والوں میں ہو گا۔ اس طرح اگر کسی کی پنشن ہو جائے تو اُس کی آمد کے لحاظ سے ہی اُس سے چندہ لیا جائے گا۔ جس کی سو روپیہ ماہوار تھی اور اس سے سو روپیہ چندہ لیا جاتا تھا پنشن ہونے کی صورت میں چونکہ اس کی آمد پچاس روپیہ ماہوار ہو جائے گی اس لیے اس سے چندہ بھی اتناہی لیا جائے گا اور یہ کمی، کمی شمار نہ ہو گی بلکہ قواعد کے مطابق ہی سمجھی جائے گی۔ آمد تیسری شرط یہ ہوگی کہ اگر کسی کی آمد کا ذریعہ بند ہو جائے یا ملازمت سے کوئی علیحدہ ہو جائے تو اُس کا فرض ہو گا کہ اپنا معاملہ فردی طور پر تحریک جدید کے دفتر کے سامنے پیش کرے اور دفتر اُس کے متعلق فیصلہ کرے گا۔ پس اگر کسی کی ملازمت جاتی رہے یا تجارت میں نقصان ہو جائے یا کسی کے پاس پہلے زمین تھی اور بعد میں وہ اس کے قبضہ میں نہ رہے تو وہ اپنا معاملہ دفتر تحریک جدید میں پیش کرے گا۔ پھر اس کی موجودہ حالت کے مطابق اس کے لیے چندہ مقرر کر دیا جائے گا۔ یہ وہ شرائط ہیں جن کی پابندی آئندہ شامل ہونے والوں کے لیے ضروری ہوگی۔ پس اب اگر کوئی شخص اس تحریک میں حصہ لینے کی خواہش ہے کرے تو دفتر اسے لکھ دے کہ ان شرائط کی پابندی لازمی ہو گی سوائے اس کے کہ کوئی فوت ہو جائے یا بیمار ہو جائے ۔ مثلاً مفلوج ہو جائے یا دماغ میں نقص پیدا ہو جائے اور اس کی آمد بالکل جاتی رہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ قواعد کے مطابق اس تحریک میں حصہ لینے والے ہیں۔ خواہ یہ حالت ایک ہی سال حصہ لینے کے بعد پیدا ہو جائے یا چند سال کے بعد ۔ کامل ایمان پیدا نہ ہو تو کوئی قربانی نہیں کی جاسکتی۔ جب انسان کو یہ کامل یقین ہو کہ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے وہ کامیابی کا راستہ ہے ، بربادی اور تباہی کا نہیں تو پھر قربانی کی راہ میں کوئی روک نہیں رہتی۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی موت اسے حیات بخشے گی۔ اس کا یا اس کی