خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 338

1944ء 338 خطبات محمود روزے رکھتے ہیں، جس طرح ہم حج کرتے ہیں اُسی طرح امراء حج کرتے ہیں لیکن یا رسول اللہ ! ایک بات میں وہ ہم سے بڑھ کر ہیں۔ وہ زکوۃ دیتے ہیں مگر ہم نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ہمارے پاس مال نہیں ہے۔ اس طرح وہ نیکی میں ہم سے بڑھ جاتے ہیں۔ یارسول الله ! آپ کوئی ایسی ترکیب بتائیں جس سے کام لے کر ہم بھی نیکی میں ان کے برابر ہو جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی ترکیب بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو دوسروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا، تم ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سُبْحَانَ الله، 33 دفعہ الْحَمْدُ لِله اور 34 دفعہ اللهُ اَكْبَر کہہ لیا کرو۔ اس سے تم پانچ سو سال پہلے جنت میں چلے جاؤ گے ۔ انہوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دن گزرے تو پھر وہی صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے کہنے پر عمل شروع کر دیا تھا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم زکوۃ نہیں دے سکتے اور نیکی کے اس میدان میں امراء ہم سے بڑھ جاتے ہیں اس لیے کوئی ایسی ترکیب ہونی چاہیے جس سے امراء ہم سے نہ بڑھ سکیں۔ مگر یار سول اللہ ! آپ نے جو کچھ ہمیں بتایا تھا اُس کا کسی طرح امراء کو بھی پتہ لگ گیا اور انہوں نے بھی اس پر عمل شروع کر دیا ہے۔ یارسول اللہ ! آپ امیروں کو روک دیجیے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں کسی کو نیکی سے نہیں روک سکتا۔ 2 تو دیکھو ان لوگوں میں کیسا اخلاص تھا کہ نیکی کے حصول کا کوئی ذریعہ اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کو خدا کا قرب حاصل ہوا۔ اگر وہ بھی اسی طرح بے پروائی کرتے جس طرح آجکل بے پروائی سے کام لیا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام ان کو کس طرح حاصل ہو سکتا۔ آجکل لوگ دین کی باتیں تو سنتے ہیں۔ مگر صرف مزہ اٹھانے کے لیے عمل کرنے کے لیے نہیں سنتے۔ وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے سر بھی مار لیتے ہیں، واہ وا بھی کہہ دیتے ہیں۔ یہ بھی کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ واعظ صاحب نے بڑا اچھا وعظ کیا۔ لیکن یہ درد پیدا نہیں ہوتا ہوتا کہ ہم ان باتوں پر عمل بھی کریں۔ اب یہی روایت میں اپنے خطبات میں کی