خطبات محمود (جلد 25) — Page 317
1944ء 317 خطبات محمود آجاؤ میرے بندو! مجھے تمہاری جان کی ضرورت ہے اور وہ دوسرے منٹ میں ہی کہے کہ آجاؤ اور اپنی جانیں میرے دروازہ پر قربان کر دو۔ اُس کو ایسے خادموں کی ضرورت نہیں ہے جو قربانی کے پر لیے تیاری نہیں کرتے یا اُس کی طرف سے آواز بلند ہونے میں اگر دیر ہو جاتی ہے تو وہ سست ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پس جو تحریکیں میں نے جماعت میں کی ہیں ان کی طرف میں ایک دفعہ پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ کوئی شخص میری ان تحریکات کو اس رنگ میں نہ سمجھے کہ شاید کل ہی وہ دن آنے والا ہے جب اسلام کی ترقی کے لیے جماعت سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ہم تو کہتے ہیں اُس دن کے آنے میں ابھی اور دیر ہو۔ تا کہ ہمارے کمزور بھی تیاری کر لیں اور ہم میں سے ہر شخص کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جائے کہ وقت آنے پر ہم اپنے اموال، اپنے اوقات، اپنی جانیں، اپنی اولا دیں، اپنی بیویاں اور اپنے دوست سب کچھ خدا کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جس طرح سفر پر جانے سے پہلے لوگ اپنی پوٹلیوں اور اپنے ٹرنکوں میں اسباب بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ گاڑی کی سیٹی بجے تو وہ اپنا اسباب اٹھا کر ڈبے میں بیٹھ جائیں اسی طرح ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ دین کے لیے اپنی تمام چیزیں تیار رکھے۔ تاکہ جب خدا کی طرف سے آنے والے انجن کی آواز سنائی دے تو وہ دو چار منٹ کے اندر اندر سٹیشن پر پہنچ جائے۔ اور پھر جتنے منٹ اس گاڑی نے سٹیشن پر ٹھہر ناہو اُس وقت کے اندر اندر اس کا اسباب گاڑی پر لد جائے۔ اگر اس طرح ہم اُس دن کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر ہم کسی خوش بختی یا ساعت سعید کا بھی انتظار نہیں کر سکتے۔ ہماری امیدیں محض ایک سراب کی حیثیت رکھیں گی جن سے آنکھیں تو چکا چوند ہو سکتی ہیں، جن سے مایوسی تو پیدا ہو سکتی ہے مگر تشنگی دور نہیں ہو سکتی"۔ (الفضل 9 مئی، 1944ء) 1 : ہمیانی: روپیہ پیسہ رکھنے کی پہلی تھیلی۔ خصوصاً وہ تھیلی جو حالت سفر میں کمر سے باندھی جاتی ہے 312 : الفجر : 28تا