خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 313

1944ء 313 خطبات محمود گھروں پر جاؤ اور اُن سے کہو میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے ؟ نکال دیا ہے اب میرے گزارہ کی کوئی صورت نہیں مجھے کچھ روپے دو تاکہ میں اُن سے تجارت کر سکوں۔ پھر دیکھو کہ تم سے یہ دوست کیسا سلوک کرتے ہیں۔ وہ کہنے لگا بہت اچھا میں اس کا تجربہ کر لیتا ہوں۔ چنانچہ وہ کسی دوست کے پاس گیا اور اُس سے کہنے لگا ابا نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے اب میں چاہتا ہوں کہ گزارہ کے لیے کوئی تجارت کروں۔ فی الحال تم مجھے پانچ ہزار روپیہ دے دو۔ جب تجارت سے آمد شروع ہو گی تو آہستہ آہستہ یہ قرض اتار دوں گا۔ جس وقت دوست سے اُس نے یہ ذکر کیا وہ سنتے ہی کہنے لگا مجھے آپ سے بڑی ہمدردی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ میرا روپیہ اس وقت فلاں فلاں جگہ پھنسا ہوا ہے۔ اگر روپیہ میرے پاس ہوتا تو میں ضرور دیتا مگر میں معذور ہوں۔ یہ کہہ کر اور معذرت کا اظہار کر کے وہ واپس اپنے گھر چلا گیا۔ اس کے بعد یہ دوسرے دوست کے پاس گیا اور اس نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر تیسرے دوست کے پاس گیا اور اُس نے بھی یہی جواب دیا۔ چونکہ اس عرصہ میں یہ بات اُس کے تمام دوستوں میں پھیل گئی اس لیے آخر میں تو ایسا ہوا کہ یہ جب اپنے کسی دوست کو آواز دیتا تو وہ باہر ہی نہ نکلتا اور نوکر کے ذریعہ کہلا بھیجتا کہ اُس سے جاکر کہہ دو میاں گھر میں نہیں ہیں۔ آخر وہ مایوس ہو کر رات کو اپنے گھر میں واپس آگیا اور باپ سے کہنے لگا کہ آپ کی بات تو سچی نکلی۔ میں سب کے پاس گیا مگر کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے باہر نکل کر معذرت کر دی اور اکثر ایسے تھے جو باہر ہی نہ نکلے۔ باپ نے یہ سن کر کہا تم نے تو اپنے دوست دیکھ لیے آؤ اب میں تمہیں اپنا دوست بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر اُس نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور دوست کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں اُسے کہنے لگا بیٹا! سچا دوست بڑی مشکل سے ملا کرتا ہے اور پھر جس طبقہ میں تم اپنے دوست تلاش کرتے ہو اس میں تو کسی سچے دوست کا ملنا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ تمہیں میر ا دوست دیکھ کر تعجب آئے گا مگر سچا دوست وہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ اُسے شہر سے باہر لے گیا۔ وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔ اس جھونپڑی کے قریب پہنچ کر اُس نے دروازہ پر دستک دی اور جو شخص اس کے اندر تھا اُسے بلایا۔ بیٹا یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ میرا باپ تو اتنا امیر آدمی ہے اور اس کا دوست ایسا غریب اور چھوٹے