خطبات محمود (جلد 25) — Page 3
1944ء 3 خطبات محمود ابھی یہاں مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مجھے ایک دوست ملے ۔ مجھے ا لے۔ مجھے اس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ لاؤڈ سپیکر کا مسجد میں انتظام کر لیا گیا ہے، میں نے ان سے کہا کہ قادیان میں جب میں جمعہ کا خطبہ پڑھ رہا ہوتا ہوں تو مجھے یہی احساس ہوتا ہے کہ میں جمعہ پڑھا رہا ہوں۔ لیکن لاہور میں جہاں کی جماعت قادیان کی جماعت کے مقابلہ میں پانچواں حصہ بھی نہیں، جب میں خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی جلسہ میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔ کیونکہ یہاں وہ سکون اور وہ خاموشی نہیں ہوتی جو قادیان میں جمعہ کے موقع پر سات آٹھ گنے زیادہ افراد پر طاری ہوتی ہے۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جب جمعہ کے دن خطیب خطبہ کے لیے کھڑا ہو تو ہر شخص کو خاموش رہنا چاہیے اور کسی شخص کو بھی خطبہ کے وقت دوسرے سے گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خطبہ میں بولنا منع ہے اور وہ بول پڑے تو دوسرا آدمی جو اسے منع کرنا چاہے اسے بھی یہ نہیں کہ وہ بول کر منع کرے بلکہ اگر بالکل ہی مجبوری ہو جائے تو وہ اشارہ سے دوسرے کو کلام کرنے سے منع کرے، زبان سے کوئی لفظ نہ نکالے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہاں تک حکم دیا ہے کہ خطبہ میں جو شخص شور مچارہا ہو اسے بھی بول کر نہ روکا جائے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں بعض لوگ خطبہ میں باتیں کر لیتے اور بعض دفعہ بلاوجہ ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کا ایک حکم توڑنے والے کو اشارہ سے منع کرنے کی اجازت دی ہے۔ مگر یہاں لوگ بعض دفعہ ہاتھ کے اشارے سے دوسرے کو اپنے پاس بلا لیتے ہیں اور بعض دفعہ ہاتھ کے اشارے سے کوئی اور حرکت کر لیتے ہیں۔ مثلاً پانی منگوانا ہو تو ہاتھ کے اشارہ سے منگوا لیں گے ۔ حالانکہ خطبہ کی حالت میں سوائے خطیب کے اور سوائے ایسی صورت کے جو نا گزیر ہو اور جب ایسے خطرہ کی حالت ہو کہ بولنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہے، کسی کے لیے بولنا جائز ہی نہیں ہو تا۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس میں اس قدر خاموشی ہوتی تھی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ گان عَلَى رُؤُوسِهِمُ الطُّيُورُ 2 یوں معلوم ہوتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر شخص کے سر پر