خطبات محمود (جلد 25) — Page 282
1944ء 282 خطبات محمود --------------------------- لوگوں کو سنبھالنے کی قوت اپنے اندر نہ رکھتی ہو تو پھر خود ہی سمجھ لو کہ اس صورت میں کتنی بڑی قیامت دنیا پر آجاتی ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ قیامت کے ایک معنے جماعت کی ترقی اور نبی کے دشمنوں کی تباہی کے بھی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر دشمنوں پر تباہی آجائے، اگر ان کی ہلاکت اور بربادی کا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریب آپہنچے اور جماعت غالب آجائے لیکن لوگوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہو تو یہ جماعت کے لیے کتنی بڑی ذلت اور شرمندگی کی بات ہو گی کہ خدا نے دشمن کی عمارت کو تہہ و بالا کر دیا، خدا نے اس کے قلعوں کو مسمار کر دیا، خدا نے اُس کے بلند و بالا محلات کو تہس نہس کر دیا اور خدا نے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا کہ آؤ اور اب اس متاع کو سنبھال لو، آؤ اور اب دشمن کی جائیدادوں پر قبضہ کر لو مگر جماعت کے لوگ ہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہم ان جائیدادوں کو کس طرح سنبھالیں ہم میں تو ان کے سنبھالنے کی طاقت ہی نہیں۔ یہ وہ قیامت ہے جس کے لیے تیاری کی ضرورت ہے، یہ وہ قیامت ہے جس کے آنے سے پہلے پہلے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کا کام ہے کہ وہ اس کے لیے ہمہ تن تیار ہو جائے۔ ورنہ دوسری قیامت کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں۔ جو تیاری انسان اپنی موت کے لیے کرتا ہے اس سے ایک پیشہ 9 کے پر کے برابر بھی زیادہ تیاری کی ضرورت اُس قیامت کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ میرے نزدیک اس کے لیے اس سے بھی کچھ کم تیاری کی ہی ضرورت ہے۔ کیونکہ مرتے وقت تو انسان کو یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ میری اس قدر جائیداد ہے اسے کون لے جائے گا۔ مگر قیامت کو یہ تمام بھ جھگڑے ختم ہو۔ ختم ہو جائیں گے اور سب لوگ اکٹھے مر جائیں گے۔ پس اصل قیامت وہ نہیں جسے عرفِ عام میں قیامت کہا جاتا ہے۔ بلکہ اصل قیامت یہ ہے کہ جب نبی دُنیا سے گزر جائے یا نبی کی پیشگوئیوں کے مطابق دشمن کو تباہ کر دیا جائے تو جماعت اُس وقت حیران و پریشان کھڑی ہو اور وہ کہے کہ اب کیا کیا جائے۔ اب ان آنے والے لوگوں کو سنبھالنے والا ہم میں کوئی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ مگر قابل آدمیوں کی کمی کی وجہ سے بہت سے انتظامات اور حکومت کے شعبے اُن لوگوں کے سپرد کرنے پڑے جو اسلام کی