خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 276

1944ء 276 خطبات محمود ------------------------------------------------ اپنے کانوں سے سُنی جس کا اندازہ انہوں نے اپنے ذہن میں بھی نہیں لگایا تھا اور اس قیامت خیز حادثہ نے وقتی طور پر اُن کے حواس کو مختل کر دیا تھا اس لیے جب حضرت ابو بکر کی تقریر انہوں نے سنی تو فوراً ان کی سمجھ میں بات آگئی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب میں نے ابو بکر کی بات سنی تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور یا تو میں تلوار لے کر اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ کھڑا تھا کہ اگر کسی شخص کے مُنہ سے یہ بات نکلی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن اڑا دوں گا اور یا مجھ پر جب صداقت گھل گئی تو میں کھڑا بھی نہ رہ سکا۔ میرے گھٹے کانپ گئے اور میں زمین پر گر گیا ۔ 4 حضرت حسان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درباری شاعر تھے انہوں نے اُس وقت کا کیا ہی عجیب نقشہ کھینچا اور اُس درد کا اظہار کیا ہے جو اُس وقت ان لوگوں کے دلوں میں تھا۔ جب حقیقت کھل گئی تو حضرت حسان کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا ۔ كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ 5 اے محمد رسول اللہ ! تم تو میری آنکھوں کی پتلی تھے۔ فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ اے محمد رسول اللہ ! آج تم نہیں فوت ہوئے میں اندھا ہو گیا۔ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ 6 اب یار سول اللہ ! کوئی مرے، باپ مرے ، ماں مرے، بہن مرے، بھائی مرے، - بیوی مرے، بچہ مرے، رشتہ دار مریں، دوست مرے کوئی پروا نہیں۔ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ میں تو تیری ہی موت سے ڈرتا تھا۔ یہ ہر شخص کے دل سے نکلا ہو ا شعر تھا۔ کہا حسان نے تھا مگر ہر صحابی کے دل کی کیفیت یہی تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ آج ہم اندھے ہو گئے۔ آج ہماری عزیز ترین چیز ہمارے ہاتھوں سے جاتی رہی۔ چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے اُس دن تمام بازاروں میں ہر صحابی یہی شعر پڑھتا ہوا سنائی دیتا تھا۔ جدھر سے گزرو اس شعر کی آواز