خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 233

1944ء 233 خطبات محمود سے، ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر بچہ ، ہر عورت اور ہر بوڑھا تین تین آدمیوں کو غلام بنائے بیٹھا ہے۔ تمام ایشیا، تمام افریقہ إِلَّا مَا شَاءَ الله، تمام جزائر إِلَّا مَا شَاءَ اللہ سارے کے سارے غلامی اور ماتحتی میں اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ ان سارے حالات کو بدلنا اور محبت سے ، پیار ، نیکی سے ، رافت سے اور شفقت سے لوگوں کی اصلاح کرنا ہمارا کام ہے۔ کیا یہ کوئی معمولی کام ہے جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے؟ دنیا میں کونسی قوم ہے جس نے ایسا کام کیا ہو ؟ کوئی قوم ایسی نہیں جس کے سپر د اتنا بڑا کام کیا گیا ہو جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے۔ پس جو کام ہمارے سپر د کیا گیا ہے وہ دنیا کی سب قوموں کے کاموں سے بڑا ہے اور جو طاقت ہمارے اندر ہے وہ دنیا کی سب قوموں سے کم ہے۔ پس یہ کام سوائے اس کے کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہو اور وہ ہمارے کمزور ہاتھوں سے یہ عظیم الشان عمارت کھڑی کر دے۔ پس ہماری ہے ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپر د کیا ہے وہ ایسی اہمیت رکھتا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ اگر ہم اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں تو ساتھ ہی ہمارا فرض ہے کہ ہم اور زیادہ قربانیاں کریں، اور زیادہ جدوجہد سے کام لیں تا کہ ہماری جو اندرونی اور باطنی کمزوریاں ہیں اُن کا کچھ کفارہ ہماری ظاہری کوششیں کر دیں۔ میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو ہندؤوں کی طرح ہر وقت سودے کا خیال رہتا ہے۔ جس طرح ہند و سودا کرنے کے بعد یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ انہیں کیا نفع ہوا۔ اسی طرح وہ چند دن روزے رکھتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ کچھ دن تضرع اور انتہال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ ان نمازوں سے انہیں کیا فائدہ حاصل ہوا۔ بے شک غیر احمدی یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو ان کا کیا نتیجہ نکلا۔ کیونکہ انہیں کہیں بھی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ لیکن ہماری جماعت تو وہ ہے جس نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے ایک مامور کو دیکھا اور اس کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کو آسمان سے اُترتے مشاہدہ کیا۔ پھر اب بھی ہماری جماعت میں وہ لوگ موجود ہیں جن کو ان کی نمازوں، ان کے روزوں اور ان کے چندوں کا نتیجہ مل گیا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے، ان کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے، ان کے