خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 174

1944ء 174 خطبات محمود جائے تو ممکن ہے اِس سے ان کا ہارٹ فیل ہو جائے۔ اس لیے میں قرآن کریم کی بعض اور سورتیں پڑھ پڑھ کر ان کا ترجمہ کر کر کے انہیں سناتا رہا اور جب میں کچھ دیر کے بعد ٹھہر گیا تو انہوں نے کہا کہ اور قرآن پڑھو۔ اس سے میں نے سمجھا کہ انہوں نے اپنی آخری حالت کو معلوم کر لیا ہے۔ چنانچہ اُس وقت میں نے سورہ یسین پڑھنی شروع کر دی اور میں نے دیکھا کہ وہ برابر اپنی زبان سے یہ دعائیں مانگتی چلی جاتی تھیں ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ - يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْتُ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیمِ ۔ اور میں نے دیکھا کہ برابر وفات تک ان کے ہونٹ ہلتے رہے۔ اور گو ان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی مگر ان کے ہونٹوں کے ملنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ برابر وہی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ میں نے ان کی وفات پر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ میں نے اُسی جگہ زمین پر خدا تعالیٰ کے حضور شکر کا سجدہ کیا کہ ان کا انجام بالخیر ہو گیا اور تکلیف دہ لمبی بیماری نے ان کے دل میں اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں پیدا کیا اور اس کی قضا پر وہ راضی ہو کر اس دنیا سے گئیں ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ میں سمجھتا ہوں در حقیقت ایک مومن کے لیے سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ مرتے وقت اُس کی زبان پر اور اُس کے عزیزوں کی زبان پر خدا تعالیٰ کا ذکر ہو۔ اُس کا دل مطمئن ہو اور دعائیں اُس کی زبان پر جاری ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو اور اس کی بخشش اُس کا احاطہ کرلے۔ وفات کے بعد ان کی شکل سے کسی طرح بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ ان کے دل میں موت کے وقت کسی قسم کا کرب تھا۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی اطمینان سے سو رہا ہو۔ بلکہ شاید دیکھنے والا ان کے چہرہ کو دیکھ کر یہ بھی نہ سمجھ سکتا کہ وہ فوت ہو چکی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہم خوش ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ اُس نے قبل از وقت ہمیں آنے والے حالات سے مطلع کیا۔ اگر وہ پہلے سے یہ خبریں ہمیں نہ بتاتا تو شاید ہمارے دل کا کرب زیادہ ہوتا۔ مگر جب اس کی بتائی ہوئی خبریں پوری ہوئیں تو ہمارے لیے یہ خوشی کا مقام ہے کہ اُس نے جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔ کی