خطبات محمود (جلد 25) — Page 167
1944ء 167 خطبات محمود تب بھی کیا خدا کا حق نہیں تھا کہ جو چیز اس نے دی ہے وہ اسے واپس لے ؟ لیکن وہ زائد وعدہ یہ کرتا ہے کہ اِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ ایک شخص اگر خدا کی طرف گیا ہے تو ہم بھی ایک دن اسی کی طرف چلے جائیں گے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی نے پہلے سفر طے کر لیا ہے اور کوئی بعد میں سفر کے لیے چل پڑے گا ورنہ منزلِ مقصود سب کی ایک ہی ہے اور جب منزلِ مقصود ایک ہی ہے تو اس میں گھبراہٹ کی کون سی بات ہے۔ بچے بعض دفعہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ولایت بھیج دیئے جاتے ہیں۔ اب کسی کی زندگی کا کیا اعتبار ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک یا دو دن بھی اور زندہ رہے گا۔ نہ والدین جانتے ہیں کہ انہوں نے اتنا عرصہ زندہ رہنا ہے اور نہ لڑکے جانتے ہیں کہ ان کی زندگی کب تک ہے ۔ مگر باوجود اس کے جب لڑکوں کو پڑھنے د کے لیے ولایت بھیجا جاتا ہے تو پانچ پانچ چھ چھ بلکہ دس دس سال تک مائیں صبر کرتی ہیں، باپ صبر کرتے ہیں اور وہ گھبراہٹ سے کام نہیں لیتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آخر ہمارے بچے ایک دن آجائیں گے۔ یا اگر کسی سفر پر کوئی شخص پہلے چل پڑتا ہے اور دوسروں نے بھی وہیں جانا ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں ہم چند دن کے بعد اس سے جاملیں گے ۔ جانا تو ہے ہی۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا لِلہ پہلے یہ اقرار کرو کہ خدا نے ہم پر جو احسان کیا ہے ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ پھر یہ بھی سمجھ لو کہ تم سارے ایک دن خدا کے پاس جمع ہونے والے ہو اور اس کے پاس پہنچ کر اکٹھے ہو جاؤ گے۔ پس فرماتا ہے جب تم سارے ایک دن اکٹھے ہونے والے ہو تو خدا کے فعل پر شکوہ یا جزع فزع کتنی بڑی نادانی ہے۔ اگر تم جزع فزع کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا اپنے عزیزوں سے آخری اتصال کمزور ہو جائے گا کیونکہ جس خدا کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ اگلے جہان میں سب کو اکٹھا کر دے اُسی کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ وہ اگلے جہان میں بعض کو جداجدا رکھے۔ پس مومن کی اصل تعزیت اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہی ہے۔ باقی جہاں تک جسم کا تعلق ہے جسم جب کہتا ہے تو ضرور دکھ پاتا ہے۔ صحابہ جنگوں میں شہید ہوئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے۔ آخر بدریا احد یا احزاب کے موقع پر کون ان کو پکڑ کر لے گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی سے گئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے لیکن جہاں تک جسم کے کٹنے کا سوال ہے ان کو ضرور تکلیف ہوئی۔ پس جسم بے شک دُکھ پاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا رم