خطبات محمود (جلد 25) — Page 109
1944ء 109 خطبات محمود تمہیں ابو ہریرہ جیسا بھی نہیں۔ خدا ہمیں ہدایت تو یہ دیتا ہے کہ تم روزے رکھو اور ابو بکر جیسے رکھو بلکہ ابو بکر" کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے رکھو کیونکہ لَكُمْ فِي رَسُولِ رض اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 3 تمہارے لیے ہمارا رسول نمونہ ہے۔ مگر دیکھنا میں تمہیں ایک ادنی سے ادنیٰ صحابی کا مقام بھی نہیں دوں گا۔ تم ز کو تیں دو اور صحابہ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابہ جیسی زکو تیں دو مگر یاد رکھنا تمہیں اُس زمانہ کے ایک ادنیٰ مسلمان جیسا درجہ بھی ہمارے ہاں حاصل نہیں ہو گا۔ آخر کونسی عقل ہے جو اس تضاد اور تخالف کو تسلیم کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہی دل دیا ہے جو اس نے صحابہ کو دیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہی دماغ دیا ہے جو اس نے صحابہ کو دیا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں بھی اپنے لقاء اور وصال کی وہی تڑپ رکھی ہے جو اس نے صحابہ کے دلوں میں رکھی۔ ہمارے قلوب میں بھی اُس نے یہ تمنا اور خواہش پیدا کر دی ہے کہ ہم عرش پر پنجہ ماریں اور خدا کی محبت بھری گود میں جا پہنچیں ۔ مگر دوسری طرف لوگ یہ بتاتے ہیں کہ خدا نے آسمان پر فرشتے بٹھا رکھے ہیں کہ دیکھنا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی بھی جس مقام پر پہنچا ہو اس سے تم نے ان لوگوں کو نیچا ہی رکھنا ہے۔ اوپر اٹھا کر نہیں لے جانا۔ یہ خدا ہوا یا نَعُوذُ بِالله ہوا ہوا۔ یہ سب غلط اور تباہ کن خیالات ہیں جو مسلمانوں میں رائج ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے جس مقام پر پہنچے ہیں اس مقام پر آج بھی ہم پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ہم کوشش کریں تو رم صحابہ سے بھی آگے بھی نکل سکتے ہیں۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ سے آگے نکل کر دکھا دیا یا نہیں؟ صحابہ تو کیا آپ گزشتہ انبیاء سے بھی افضل ہیں اور صحابہؓ تو یقیناً درجہ کے لحاظ سے آپ سے بہت نیچے ہیں۔ بلکہ آپ کا مقام تو وہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں ۔ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا 4 یعنی جو شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرتا اور سچے دل سے میری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ ویسا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے۔ گویا آپ سے تعلق پیدا کر کے انسان آج بھی صحابہ جیسا بن سکتا ہے۔ رض