خطبات محمود (جلد 24) — Page 95
1943ء 95 خطبات محمود تو ہزاروں لاکھوں گناہ جو یہ روز کرتا ہے مثلاً کبھی جھوٹ بولتا ہے، کبھی بدظنی کرتا ہے، کبھی کسی سے درشت کلامی کرتا ہے، کبھی کسی سے ہنس کر نہیں بولتا، کسی وقت بچوں کی تربیت سے غفلت کرتا ہے، بعض دفعہ بیوی کا حق ادا نہیں کرتا۔ ایسی صورت میں جب قیامت کے دن ان غلطیوں کا طومار اس کے سامنے رکھا جائے گا تو اس وقت اس کے پاس کیا چیز ہو گی جو اس کے بدلہ میں دے گا۔ اس وقت صرف ایک ہی چیز ہو گی جو بدلہ میں پیش کر سکے گا۔ یعنی جو اس نے اپنے بھائیوں کے گناہ معاف کئے ہوں گے۔ اس وقت خدا تعالیٰ کہے گا کہ میرا بندہ دنیا میں دوسروں کے گناہ معاف کر تا رہا ہے اور جب یہ بندہ ہو کر اپنے جیسے بندوں کے گناہ معاف کرتا رہا ہے تو میں رب العالمین ہو کر اس کے گناہ کیوں نہ معاف کروں۔ مجھے تو اسے سزا دیتے ہوئے شرم آتی ہے۔ لیکن بعض لوگ اس قانون سے یہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کہ قانون شکنی کو جرم نہیں سمجھتے اور خود بخود خیال کر لیتے ہیں کہ وہ قابل معافی ہیں۔ مثلاً جب نظام سلسلہ کے خلاف بعض لوگ حرکت کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدا اتنے گناہ معاف کرتا ہے آپ بھی معاف کر دیں۔ حالانکہ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ اس فعل کی اصلاح ہونی چاہیئے اور معاف کرنا تو اس کے اختیار میں ہوتا ہے جس کا جرم کیا جائے۔ رسول کریم صلی علی ایم کے پاس بعض لوگ ایک عورت کا مقدمہ لائے جس نے چوری کی تھی۔ چونکہ وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ بعض لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! الله سه اسے معاف کر دیا جائے۔ رسول کریم صلی علیم یہ سن کر جوش میں آگئے اور آپؐ نے فرمایا: خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔5 تو معافی کے یہ معنے نہیں کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے اور نہ مجرم کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ بطور حق کے معافی مانگے۔ معافی دینا اصل میں خدا کا کام ہے اور اس نے بندہ کے گناہ معاف کرنے کی نیکی کو اس کی معافی کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور یہی چیز ہے جو خدا کے سامنے ان گناہوں کے طومار کی سزادینے سے اسے بچاتے ہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ کی تعلیم کس طرح حکمت سے پُر ہے۔ ایک طرف حاکم کو کہتا ہے کہ تو نیچا ہو کر بات کر اور دوسری طرف ماتحت کو کہتا ہے کہ اگر کوئی تجھ پر ظلم کرتا ہے تو مجھ سے