خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 83

خطبات محمود 83 1943ء کہلاتے ہیں۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ وَ اَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمُ ايْتُ اللهِ - اللہ تعالیٰ کے نشان دیکھ کر پھر کس طرح نافرمانی کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس انکار کی حقیقت کو جانتا ہے مگر پھر تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ یہ بات عقل میں نہیں آتی کہ نگر ان کھڑا ہے، روک رہا ہے، ہاتھ پکڑ رہا ہے پھر بھی لوگ نافرمانی کرتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ یہ اس کا فعل عقل کے خلاف ہے۔ یہ آیت جس طرح صحابہ پر چسپاں ہوتی ہے ، دوسری صدی، تیسری صدی یا اور کسی صدی کے لوگوں پر چسپاں نہیں ہوتی۔ صرف ہم پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم میں اللہ کا رسول آیا مگر باوجود نشانات دیکھنے کے ہم میں بعض احمدی ایسے ہیں کہ سچ بولتے وقت کمزوری دکھاتے ہیں۔ انصاف نہیں کرتے ، عدل نہیں کرتے ، ہمدردی نہیں کرتے۔ سمجھ نہیں آتی کہ با وجود نشانات دیکھنے اور سمجھ لینے اور باوجود نگرانی کے وہ کیوں ایسا کرتے ہیں۔ " 1: آل عمران : 102 )الفضل 17 مارچ 1943ء( 2 : السيرة الحلبية جلد 1 صفحه 309,308 مطبوعه مصر 1932ء 3 بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي عليه الله باب قول النبي علي الله لو كنت متخذا خلیلا۔۔۔