خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 67

1943ء 67 خطبات محمود کر رہا ہو تا بلکہ اپنا کام بھی کر رہا ہوتا ہے۔ بندے کا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کر لیتا ہے اور اپنے لئے ترقی اور کامیابی کے رستے تلاش کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کا فائدہ اس میں یہ ہوتا ہے کہ اس کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور اس کی قدرت اور شان دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ پس جب دنیا مخالف ہو لیکن خدا تعالیٰ کا ارادہ اور ہو تو اس وقت خدا جب اپنے ارادے کو پورا کرتا ہے تب دنیا سمجھتی ہے کہ واقع میں کوئی زندہ خدا موجود ہے۔ گویا صرف بندے کا ہی کام نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ کا بھی کام ہوتا ہے۔ اور صرف بندے کی ہی شان ظاہر نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کی شان بھی ظاہر ہوتی ہے۔ پس ایسے وقت میں دعائیں ایک خاص اثر رکھتی ہیں اور ہمیں چاہیئے کہ ہم ہمیشہ اپنی دعاؤں میں اس نکتہ کو ملحوظ رکھیں۔ مجمل دعائیں تو انسان رتا ہی ہے مگر وہ اتنا فائدہ نہیں دیتیں جتنا فائدہ وہ تفصیلی دعائیں دیتی ہیں : دیتی ہیں جو حقیقت کو پوری کرتا طرح سمجھ کر کی جاتی ہیں۔ پس صرف دنیوی سامانوں کو دیکھ کر دعائیں نہ کرو بلکہ روحانی بصیرت سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گرو اور اس سے کہو کہ الہی ! ہمیں چاروں طرف سے گمراہی نظر آتی ہے۔ جو چیزیں ہمارے ملک یا ہمارے مذہب کے لئے مفید ہیں ان کے ساتھ اتنی خرابیاں ملی ہوئی ہیں کہ ہم اپنی طاقت سے ان خرابیوں سے بچ نہیں سکتے۔ تیرے حضور ہم التجا کرتے ہیں کہ ہمیں ان خرابیوں سے بچا لینا اور جو اچھی باتیں ہیں اُن سے حصہ دینا۔ یہ تیرے اختیار کی بات ہے ہمارے اختیار کی نہیں۔ اس لئے ہم تجھ سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ جو چیزیں ہمیں اچھی نظر آتی ہیں اُن کے کے ساتھ جو تار تاریک پہلو ہیں اُن کی تاریکی اور ظلمت سے ہمیں بچا لے اور خوبیوں سے ہمیں حصہ دے۔ رسول کریم صلی الله ام لی عالمی ریم اور آپؐ کے خاندان کی ایک دفعہ مکہ والوں نے بڑی ہتک کی۔ انہوں نے اشعار کے ذریعہ آپؐ کی ہجو کہنی شروع کر دی۔ اسی طرح وہ اشعار میں آپؐ کے خاندان کی بھی ہتک کرتے۔ جب ان کی شرارت بہت بڑھ گئی تو حسان بن ثابت رسول کریم صلی اللی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب تو حد ہو گئی ہے۔ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بھی کفار کی ہجو کہیں۔ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا میں اجازت تو دے دوں