خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 55

1943ء 55 خطبات محمود کر دیا۔ ”دعوۃ الامیر “ یا ”احمدیت ان دونوں میں سے کوئی ایک کتاب تھی جس کا انہوں نے ذکر کیا۔ غالباً وہ دعوۃ الامیر ہی تھی۔ جب میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو اس میں مجھے اس موضوع پر بھی بحث ملی کہ لوگ کہتے ہیں اسلام کے تنزل کا وقت آگیا مگر وہ ایسا کیونکر کہہ سکتے ہیں جبکہ اس تنزل کی تمام تفصیلات کی خبر آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی العلی میم دے چکے ہیں۔ جس شخص نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ان تمام واقعات کی خبر دے دی تھی ان واقعات کو دیکھ کر انہیں اس کی شکست قرار دینا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کا خدا تعالیٰ سے نہایت پاک تعلق تھا کہ جو باتیں ایک لمبے زمانہ کے بعد رونما ہونے والی تھیں وہ اس نے اپنی روحانی آنکھ سے تیرہ سو سال پہلے دیکھ لیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اس کی یہ باتیں پوری ہو گئیں تو اس کی وہ باتیں بھی ضرور پوری ہو کر رہیں گی جو اسلام کی ترقی کے متعلق اس کی زبان پر جاری ہوئیں اور جن میں اس نے مسلمانوں کو خوشخبری دی ہے کہ اسلام مغلوب ہونے کے بعد پھر غالب آئے گا۔ پھر کفر کو دنیا سے مٹادیا جائے گا اور پھر خدائے واحد کی پرستش کو دنیا میں قائم رکھا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ میں جوں جوں ان پیشگوئیوں کو پڑھتا جاتا تھا میری آنکھیں کھلتی جاتی تھیں کہ عیسائیوں کی ترقی کا کیسا صحیح نقشہ رسول کریم صلی الم نے کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ میں نے تو آج یورپ میں پھر کر عیسائیوں کی حالت کو دیکھا مگر محمد صلی العلیم آج سے تیرہ سو سال پہلے رؤیا و کشوف کے ذریعہ یہ تمام حالات دیکھ چکے تھے۔ اس کے بعد جب میں نے یہ مضمون پڑھا کہ کس طرح رسول کریم صلی الله ام علیم نے اس تنزل اور ادبار کے بعد اس اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کی خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح اسلام کا دوبارہ احیاء ہو گا تو میر ادل خوشی سے لبریز ہو گیا اور میں نے کہا ہمارے لئے اپنے مستقبل سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ ہماری ہی سستی ہے کہ ہم اس کھڑ کی میں داخل نہیں ہوتے جو اس آفتاب کی روشنی کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول رکھی ہے۔ چنانچہ اس وقت کہ رات کے دو تین بجنے کے قریب ہیں پیشتر اس کے کہ میں چار پائی پر لیٹوں میں اپنی بیعت کا خط آپ کی طرف بھیج رہا ہوں۔ س تو دشمن کے لئے خوش ہونے کا کوئی موقع نہیں۔ اسلام کی دیواریں اگر ایک طرف