خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 51

1943ء 51 خطبات محمود بستے ہوں اُن کے دلوں میں اسلام کی تعلیم کی کوئی عظمت باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ آج سے پچاس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تھا۔ ترکی وفد نے کون سی نئی بات بتائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھاع ہر کسے در کار خود با دین احمد کار نیست 2 ہر شخص کو اپنے اپنے کام سے تعلق ہے مگر رسول کریم صلی الم کے دین سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا تھاع بیکسی شد دین احمد ، پیچ خویش و یار نیست 3 دین اسلام بے کس ہو گیا ہے اور کوئی اس کا دوست و مدد گار نہیں رہا۔ یہ وہ چیز ہے جسے سلسلہ احمد یہ پچاس سال سے پیش کر رہا ہے اور ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ آج مسلمانوں کی یہی حالت ہو رہی ہے۔ پھر اس کو اسلام کی ایک نئی شکست کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بیماری تو وہ ہے جس کا اعلان آج سے پچاس سال پہلے بلکہ اس سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کر دیا تھا۔ پس یہ کوئی نئی بیماری نہیں جو ہمارے سامنے پیش کی جائے۔ دشمنانِ اسلام کو جو کچھ دیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا اس بیماری کے علاج کا کوئی شفا خانہ دنیا میں قائم ہو چکا ہے یا نہیں۔ اگر دنیا میں اس بیماری کے علاج کا شفاخانہ قائم ہو چکا ہے تو پھر اس میں ان کے لئے خوشی کا کون سا موقع ہے۔ آج دوبارہ اسلام کی ترقی کے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیئے ہیں اور دوبارہ اسلام کی بنیادوں کی تعمیر کے لئے قادیان میں اس نے اپنا ایک انجینئر بھیج دیا ہے۔ اس انجینئر نے اسلامی بنیادوں کو مضبوط کر کے اس پر اسلام کے رفیع الشان محل کی عمارت کو کھڑا کر نا شروع کر دیا ہے۔ پس اگر کوئی دشمن اسلام اسلام کی گرتی ہوئی بنیاد کو دیکھ رہا ہے تو وہ اُن اُٹھتی ہوئی بنیادوں کو بھی دیکھے جس کے عظیم الشان محل میں دنیا کی تمام پاکیزہ روحوں کو لا کر اکٹھا کر دیا جائے گا۔ اُن کو وہ چھ شکست خوردہ ذہنیت کے مالک مسلمان نظر آتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اُن کے گھروں کے سامنے خدا تعالیٰ کی یہ آواز بلند کی جارہی ہے کہ “ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ ” کیا یہ آواز اُن کے کانوں میں نہیں آتی۔ وہ محل جس کی دیواریں