خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 320

1943ء 320 خطبات محمود اور اکٹھے ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں جب میں اس کو دیکھتا کہ نہ صرف وہ مجھ سے کلام نہ کرتا بلکہ اس کی آنکھوں میں محبت اور پیار کا نشان مجھے نظر نہ آتا تو میرے دل کو سخت دکھ محسوس ہوتا۔ ایک دفعہ وہ اپنے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میں اس کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا تم کو پتہ ہے کہ میں منافق نہیں اور تم کو پتہ ہے کہ یہ خطا جو مجھ سے ہوئی اس کا کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے لئے قربانی کا مادہ میرے اندر نہیں پایا جاتا۔ یہ ایک قصور ہے جو سستی کی وجہ سے مجھ سے سرزد ہو گیا۔ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر اسے توجہ دلائی۔ مگر اس نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔ پھر توجہ دلائی مگر پھر کوئی جواب نہ دیا۔ آخر چوتھی بار میں نے توجہ دلائی تو اس نے بغیر میری طرف دیکھنے کے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس کا مجھے اتنا صدمہ ہوا، اتنا صدمہ ہوا کہ شدتِ غم کی وجہ سے باغ کا رستہ بھی مجھے نہ ملا اور میں دیوار پھاند کر پاگلوں کی طرح شہر کی طرف چل پڑا۔ رستہ میں مجھے ایک شخص ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم فلاں شخص ہو۔ میں نے کہا ہاں۔ اس نے ایک خط نکالا جو ایک ہمسایہ بادشاہ کا تھا اور جو میرے نام لکھا ہوا تھا اُس چٹھی کا مضمون یہ تھا کہ تم عرب کے رئیس ہو اور تمہاری لوگوں کے دلوں میں بہت بڑی عزت ہے مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی الم کا نام لے کر لکھا تھا کہ وہ نہیں جانتا شریفوں کی کس طرح قدر کیا کرتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ اس نے تمہیں سزادی ہے۔ تم میرے پاس چلے آؤ میں ہر طرح تمہارا اعزاز و اکرام کروں گا اور تمہاری شان کے مطابق تم سے سلوک کروں گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے جب اس خط کو پڑھا تو سمجھا کہ یہ شیطان کی آخری تدبیر ہے۔ چنانچہ میں نے اس شخص کو اشارہ کیا کہ میرے ساتھ آجاؤ۔ آگے تنور جل رہا تھا۔ میں نے وہ خط اس تنور میں ڈال دیا۔ اور اسے کہا جاؤ اپنے بادشاہ سے کہہ دو کہ یہ تمہارے خط کا جواب ہے۔ وہ رسول کریم صلی الم کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اور تو سب چیزیں برداشت ہو جاتی تھیں مگر رسول کریم صلی العلیم کی ناراضگی برداشت کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ میرا کام یہ تھا کہ جب رسول کریم صلی العلم باہر آتے تو میں آپ کی مجلس میں پہنچتا اور زور سے کہتا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔ پھر میں رسول کریم صلی علیم کے منہ کی طرف دیکھنے لگ جاتا کہ آیا آپ کے ہونٹ جواب میں