خطبات محمود (جلد 24) — Page 301
1943ء 301 خطبات محمود میری آواز اور میری صحت میر ا ساتھ نہیں دیتی۔ اس لئے میں اس مختصر تمہید کے ساتھ دسویں سال کے چندہ تحریک جدید کا اعلان کرتا ہوں کہ اے میرے عزیزو! میرے بھائیو! میرے رفیقو! اور میرے ساتھیو! اسلام کی ترقی کی وہ بنیاد جو آج سے دس سال پہلے نہایت نیک ارادوں اور پاکیزہ خواہشات کے ساتھ رکھی گئی تھی اس بنیاد کی بھرتی کا اب آخری سال آ رہا ہے۔ تم نے نو سال تک خدا تعالیٰ کے دین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کیں بلکہ شاید بعض نے قربانیاں بھی نہیں کیں صرف لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہو گئے ہیں مگر بہر حال ہر شخص کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ آج اس تحریک کا دسواں سال شروع ہو رہا ہے جو پہلے دور کی آخری تحریک ہے اور جسے اسلامی بنیادوں کی بھرتی سمجھنا چاہیئے۔ تم میں سے وہ جن کو خدا تعالیٰ نے قربانی کی توفیق عطا فرمائی ہے میں ان سب سے کہتا ہوں کہ آج پھر تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے قربانی کا ایک موقع پیدا کیا گیا ہے۔ اور اس تحریک کا دسواں سال شروع ہو رہا ہے۔ تم قربانی کا نمونہ پیش کر کے اپنے اعمال کو زیادہ سے زیادہ سنوار لو اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کی کوشش کرو۔ وہ لوگ جنہیں گزشتہ سالوں میں اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا مگر اب ان کی مالی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ وہ اس تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں۔ میں ان سے بھی کہتا ہوں کہ یہ تحریک جدید کے آخری سال کے ایام ہیں۔ ان دنوں میں وہ اس تحریک میں حصہ لے کر خدا تعالیٰ کے بہادر سپاہیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جن کو اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق تو تھی مگر بوجہ کمزوری ایمان یا صحبت بد کی وجہ سے انہیں اس میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا ان کے لئے بھی یہ ایک آخری موقع پیدا ہو گیا ہے۔ جس میں وہ اپنے دلوں کو ان گندوں اور ان زنگوں سے صاف کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو کمزوری ایمان یا بری صحبت کی وجہ سے ان کے دلوں پر لگ چکے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے حضور اس کے سپاہیوں میں شامل ہونے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ غرض میں ان سب کو جو اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں یا حصہ لے سکتے ہیں یا اگر پہلے انہوں نے حصہ نہیں لیا تو اب وہ اپنی گزشتہ کو تاہیوں کے ازالہ کا ارادہ رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے بلاتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس سال کی تحریک میں پہلے تمام سالوں سے بڑھ کر حصہ لینے