خطبات محمود (جلد 24) — Page 299
1943ء 299 خطبات محمود شخص اپنی مرضی اور خوشی سے اس میں شامل ہونا چاہے وہی شامل ہو۔ کسی پر جبر اور اکراہ نہیں مگر باوجود اس کے کہ جماعت بہت زیادہ ہے۔ دس سال کے طویل عرصہ میں اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار کے ارد گرد ہی چکر لگاتی رہتی ہے۔ جس طرح گھڑی کا پنڈولم ایک خاص مقام پر حرکت کرتا ہے اور مرکز کے ارد گرد چکر لگاتا رہتا ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی تعداد کبھی پانچ ہزار سے اوپر چلی جاتی ہے اور کبھی پانچ ہزار سے نیچے چلی جاتی ہے۔ گویا چکر پانچ ہزار کے ارد گرد ہی لگاتی رہتی ہے۔ بھلا کس انسان کی طاقت میں تھا کہ وہ ایسا کر سکے اور کون شخص اپنی تدبیر سے تعداد کو اسی محور پر رکھ سکتا تھا۔ یہ محض خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ اور اس واقعہ نے نہایت صفائی اور وضاحت کے ساتھ اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے مطابق اسلام کی فتح کی بنیاد ، احمدیت کے غلبہ کی بنیاد، محمد صلی علیم کے نام کو دوبارہ زندہ کرنے کی بنیاد ازل سے تحریک جدید کے ساتھ وابستہ قرار دے دی گئی ہے۔ ان پانچ ہزار سپاہیوں کی قربانیاں آئندہ دنیا میں کیا انقلاب پیدا کریں گی یا آئندہ یہ تحریک کیا شکل اختیار کرے گی اور اس تحریک کے کیا کیا نتائج رو نما ہوں گے ان سب باتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ اخلاص سے ، محبت سے ، انابت سے ، اطاعت کا کامل نمونہ دکھاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف پورے تضرع اور ابتہال کے ساتھ جھکتے ہوئے قربانیاں کرتے چلے جائیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نے اس فرض کو ادا کر دیا ہے جو اس کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا تھا یا اپنے فرض کو ادا کرنے کی بجائے خدا نخواستہ اپنی غفلت اور نادانی سے اس کے عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں۔ ان سب باتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم اس کی رحمت اور فضل کے امیدوار ہیں۔ اور ہم اس سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اب جبکہ یہ تحریک اپنے پہلے دور میں ختم ہونے والی ہے وہ ہماری ان کو تاہیوں کو معاف فرمادے جو اس تحریک کے دوران میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی وفات کے وقت کسی شخص نے کہا کہ آپ کو تو بہت بڑے اجر ملیں گے کیونکہ آپ نے اسلام کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں۔ اس وقت