خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 266

1943ء 266 خطبات محمود کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کا خیال ان کے دل میں آیا۔ اتنے میں پٹھان نے پوچھا کہ کیوں حضرت یہ جگہ کیسی ہے۔ انہوں نے کہا بہت اچھی ہے۔ اس نے پوچھا آپ کو پسند آئی ہے۔ پیر صاحب نے کہاہاں بہت پسند ہے۔ اس نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ میں آپ کو مار کر یہاں آپ کی قبر بناؤں۔ پیر صاحب گھبر اگئے اور پوچھنے لگے کہ یہ کیوں؟ تو اس نے کہا میں غریب آدمی ہوں۔ اتنی دور آپ کی زیارت کے لئے جانا مشکل ہے۔ یہیں آپ کی قبر ہو گی تو میں اور میری بیوی صبح شام اس سے برکت حاصل کر سکیں گے۔ پھول بھی چڑھا جایا کریں گے اور برکت بھی ملتی رہے گی۔ پیر صاحب نے کہا کہ یہ برکت والی بات تو نہیں۔ اس سے تو تم لعنت مول لے لو گے۔ اس نے کہا کہ نہیں پیر صاحب کی قبر سے زیادہ برکت والی چیز اور کون سی ہو سکتی ہے۔ آپ مجھے معاف فرمائیں یہ کام تو میں ضرور کروں گا۔ آخر پیر صاحب نے اس سے وعدہ کیا کہ میں خود ہی سال میں ایک دو بار یہاں آ جایا کروں گا۔ اور پھر ان کی جان چھوٹی۔ تو یہ نادانی ہے محبت نہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں جو اخلاص میں تم سے بہت بڑھ کر تھے اور اُن میں ایک ایسا سردار تھا کہ جو مجھ سے ان گنت گنا زیادہ شان رکھتا تھا مگر ان کے باہم ایسے تعلقات نہ تھے جو تم میرے ساتھ رکھنا چاہتے ہو۔ خوب یاد رکھو کہ اُن کا رویہ بالکل ٹھیک تھا اور حکمت سے خالی نہ تھا۔ کوئی موقع استثنائی بھی آسکتا ہے اور ایسے مواقع بھی آئے ہیں جب صحابہ رسول کریم صلی الم کو دعوت پر اپنے ہاں بلا کر لے گئے ہیں مگر وہ اور مواقع تھے۔ ایک دعوت کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے دیکھا کہ آنحضرت صلی العلیم نے اپنا پیٹ کس کر باندھا ہوا ہے۔ عربوں کے رواج کے مطابق اس کا یہ مطلب تھا کہ آپ کو سخت بھوک لگ رہی ہے۔ اس کے گھر میں ایک ہی بکری تھی۔ وہ فورا گھر آیا اور بیوی سے کہا کہ آج موقع ہے۔ رسول کریم صلی ا ہم بھوکے ہیں اور اس بکری کے استعمال کا اس سے بہتر موقع کیا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے بکری ذبح کی، شور با پکایا اور پھر جاکر رسول کریم صلی الیم کو دعوت دی کہ اتنے آدمیوں سمیت تشریف لا کر میرے ہاں کھانا تناول فرمائیں۔ 2 چنانچہ آپؐ تشریف لے گئے اور کھانا کھایا۔ اس نے عقل سے کام لیا اور برکت حاصل کی لیکن وہ رسول کریم صلی علیم کو محض برکت حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاں لے کر نہ