خطبات محمود (جلد 24) — Page 259
1943ء 259 خطبات محمود بشری طاقتوں سے زیادہ کام کر سکتا ہے یا انسانی اور بشری دماغوں سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے بالکل غلط خیال ہوتا ہے جو فرق نظر آئے گا وہ صرف اس حد تک ہو گا کہ ایک انسان اپنے دماغ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے والا اور دوسرا کم سے کم استعمال کرنے والا ہو گا۔ ایک پاگل اور اس کے مقابلہ میں ایک بڑے فلسفی مثلاً افلاطون کو لے لو۔ ان میں انسانیت اور غیر انسانیت کا فرق نہیں ہو گا۔ صرف اتنا فرق ہو گا کہ دماغ کی جو قوتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں ایک نے انہیں ادنیٰ طور پر استعمال کیا اور دوسرے نے اعلیٰ طور پر ۔ یا روحانی و روحانی دنیا میں رسول کریم صلی الله ام سة س اور ابو جہل کی مثال لے لو۔ ابراہیم اور نمرود، موسیٰ اور فرعون، عیسی اور ان کے مخالف فریسیوں کو لے لو۔ ان میں یہ فرق نہیں ہے کہ آنحضرت صلی العلیم یا حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے دماغ ابو جہل، نمرود، فرعون اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے دشمن فریسیوں کے دماغوں سے علیحدہ تھے۔ یا دوسرے انسانوں سے کوئی علیحدہ دماغ تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللام ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام نے ان قوتوں کو جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملیں اس روشنی کے ماتحت جو اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوئی، زیادہ سے زیادہ استعمال کیا مگر ابو جہل، نمرود اور فرعون وغیرہ نے اس روشنی کو رد کیا اور دماغ کی روحانی طاقتوں کو کم سے کم استعمال کیا۔ صرف اتنا ہی فرق ہے۔ یہ نہیں کہ تفاوت کی وجہ سے کوئی وجو د انسانوں کے حلقہ سے باہر نکل گیا۔ یا کوئی عام انسانوں سے کسی بالا درجہ میں چلا گیا۔ جنہوں نے ان طاقتوں کو اچھی طرح استعمال کیا وہ انسانوں سے بالا نہیں ہو گئے اور جنہوں نے بری طرح استعمال کیا وہ انسانوں کے حلقہ سے باہر نہیں نکلے۔ ادنی رنگ میں ان طاقتوں کو استعمال کرنے والے انسانوں سے بالا ہستی نہیں بن گئے۔ جہاں تک ان کی قوتوں کے استعمال کا سوال ہے دونوں انسان ہی رہے۔ غرض انسانیت سے بالا طاقتیں نہ کبھی کسی انسان کو ملیں اور نہ مل سکتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ کچھ عرصہ سے خصوصاً اس سال میری صحت زیادہ سے زیادہ گرتی جارہی ہے اور اب یہ حالت ہے کہ اگر میں مہینہ بھر بیمار رہوں تو ایک دن ایسا آتا ہے کہ میں اپنے آپ کو تندرست کہہ سکوں۔ اور پندرہ بیس دن ایسے ہوتے ہیں کہ جو نیم بیماری اور