خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 218

1943ء 218 (23) خطبات محمود جماعت احمد یہ تبلیغ احمدیت کس رنگ میں کرے فرموده 8 اکتوبر 1943ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو مخاطب فرمایا ہے اور جن الفاظ میں مخاطب فرمایا ہے وہ ہمارے لئے اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ حضرت نوح ان نبیوں میں سے سمجھتے جاتے ہیں جو دنیا پر بہت بڑا عذاب لائے تھے۔ ایسا عذاب لانے والا نبی بھی اگر ہمارے لئے ہدایت و رشد کا ایسا سبق پیش کرتا ہے جو نرمی اور عفو پر مبنی ہے تو وہ انبیاء جن کی تعلیم عفو اور رحم پر زیادہ مشتمل ہے ان کی امتوں کی ذمہ داری تو اور بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں اُبَلِغُكُم رِسُلَتِ رَبِّي وَ انْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۔ 1 اس آیت میں انہوں نے اپنی تبلیغ کا طریق بیان فرمایا ہے۔ اور وہ ہتھیار اور حربہ بھی بیان فرمایا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مخالفوں پر غالب آنے کی امید رکھتے ہیں۔ اس آیت میں تین باتیں ہیں جن کے متعلق وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ میں اپنے مخالفین کا مقابلہ کروں گا۔ گویا یہ تین ہتھیار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملے تھے۔ پہلا ہتھیار یہ ہے۔ ابلِغُكُم رِسلتِ رَبِّی میں تمہارے سامنے وہ تعلیم پیش کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھے ملی ہے۔ رب کا لفظ عربی زبان میں ایسی ہستی کے لئے بولا جاتا ہے کہ جو ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر کمال تک پہنچاتی ہے۔ گویا زندگی کے تمام شعبوں کے ساتھ اس کا