خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 166

1943ء 166 خطبات محمود باریک آٹا تیار ہونے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب سے پہلا آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا جائے تاکہ سب سے پہلے وہ اس آٹے کو استعمال کریں۔ پھر کسی اور کو استعمال کرنے کے لئے دیا جائے گا۔ وہ میدے کی طرز کا باریک آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں تحفہ بھیجا گیا اور عرض کیا گیا کہ سب سے پہلے آپ اس کی روٹی پکا کر کھائیں۔ اس کے بعد اور لوگوں کو کھانے کی اجازت دی جائے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آٹا پکوایا اور اس کی روٹی کھانے لگیں۔ ارد گرد کی عور تیں یہ سن کر کہ ایک نئی قسم کا آٹا آیا ہے اور وہ نہایت ہی باریک ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گئیں۔ ہم اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے کہ عورتیں کیوں جمع ہوئیں کیونکہ ہم مدتوں سے باریک آٹا استعمال کرتے چلے آرہے ہیں اور ہمارے لئے اس میں کوئی حیرت اور تعجب کی بات نہیں رہی۔ مگر شروع شروع میں گاؤں کے لوگ بھی بڑے حیران ہوتے تھے اور جب مشینوں سے آٹا پیس کر جاتا تو وہ ارد گرد سے اس کو دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ اس طرح کا ایک مجمع حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گیا۔ اور محلہ کی سب عورتیں اکٹھی ہو گئیں۔ وہ پھلکوں کو ہاتھ لگاتیں اور کہتیں واہ واہ کیسے نرم پچھلکے ہیں۔ آخر وہ خادمہ جس نے پھلکے پکائے تھے اس نے ایک دو پھلکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے رکھ دیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لقمہ لیا اور منہ میں ڈالا مگر منہ میں لقمہ ڈالتے ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ خادمہ کو شبہ پیدا ہوا کہ کہیں روٹی میں کوئی نقص نہ رہ گیا ہو۔ وہ کہنے لگی بی بی روٹی تو بڑی نرم ہے اور بغیر سالن کے آپ ہی گلے سے اترتی جاتی ہے مگر آپ کی حالت سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ لقمہ آپ کے گلے میں پھنس گیا ہے۔ کیا روٹی میں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں۔ روٹی بڑی نرم ہے مگر یہ واقع میں میرے گلے میں پھنس گئی ہے کیونکہ منہ میں روٹی کا لقمہ ڈالتے ہی مجھے خیال آیا کہ رسول کریم صلی العلیم کے زمانہ میں چکیاں نہیں ہوا کرتی تھیں اور ہم بعض دفعہ پتھر پر پتھر رکھ کر گیہوں پیس لیتے اور بسا اوقات رسول کریم صلی العلی میم کے سامنے میں ایسے ہی موٹے اور بے چھنے آٹے کی روٹی رکھا کرتی تھی۔ آج اس روٹی کا