خطبات محمود (جلد 24) — Page 135
1943ء 135 خطبات محمود کہ دنیا میں کوئی خاص تغیر پیدا ہو گیا ہے اور وہ گندم کا بھاؤ بڑھا دیتے ہیں۔ یہ تجاویز ہیں جو اس سال گندم کی فراہمی کے لئے میں جماعت کے سامنے رکھتا ہوں۔ صدرانجمن احمد یہ کو چاہیے کہ وہ پندرہ میں ہزار روپیہ فوراً الگ کر دے۔ کمیٹی کے ممبروں کے نام میں بعد میں تجویز کر دوں گا جب گاہک آنے شروع ہو جائیں اور روپیہ بھی وصول ہونے لگ جائے۔ تو وہ یہ روپیہ امانت میں واپس کر سکتی ہے۔ سوائے اتنے روپیہ کے جتنے روپیہ کی گندم کی خود صدرانجمن احمد یہ کو ضرورت ہے اور میں سمجھتا اہوں ہوں صدر انجمن احمد یہ کو اپنی ضروریات کے کے لئے بھی آٹھ دس ہزار روپیہ کی گندم ضرور خریدنی پڑے گی۔ بہر حال روپیہ اِنْشَاءَ اللہ جلد آنا شروع ہو جائے گا۔ پچھلی دفعہ میں نے دیکھا ہے جب غلہ کی قلت ہو گئی اور ہم نے سات آٹھ روپیہ من پر غلہ دینے کا اعلان کیا تو گیارہ ہزار روپیہ چند دن میں ہی جمع ہو گیا۔ اس میں سے پہلے پچاس فیصدی تک لوگوں کو گندم دی گئی۔ پھر ہم بعض لوگوں کو ساٹھ اور ستر فیصدی تک بھی گندم مہیا کر کے دے سکے اور جو روپیہ باقی رہتا تھا وہ لوگوں کو واپس کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی میں ایک دفعہ پھر بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی کہا ہے وہ اپنی ضرورت سے کچھ زائد غلہ اپنے پاس محفوظ رکھیں تا کہ اگر قادیان والوں کو غلہ کی ضرورت ہو اور گردو نواح کی جماعتوں سے ضرورت پوری نہ ہو سکے تو ان سے غلہ منگوایا جا سکے۔ انہیں بھی اپنا غلہ انتظامیہ کمیٹی کے سپرد کرنا پڑے گا اور اس وقت جو بھی منڈی میں گندم کی قیمت ہو گی وہ انہیں دے دی جائے گی۔ اب چونکہ گندم کے ریٹ پر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی کنٹرول نہیں اس لئے یہ دیکھ لیا جائے گا کہ منڈی کا کیا بھاؤ ہے۔ پھر جو بھاؤ منڈی کا ہوا اسی پر ان سے گندم خریدی جائے گی۔ اگر باہر کی جماعتیں اپنی ضرورت سے زائد گندم اپنے پاس محفوظ رکھیں اور دو تین مہینہ تک انتظار کریں تو میرے نزدیک 15، 20 ہزار من غلہ بیرونی جماعتوں سے بھی آسانی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔ بڑی جماعتوں میں سے جو غلہ جمع کر سکتی ہیں سیالکوٹ ہے، سر گو دھا ہے، لائلپور ہے، منٹگمری ہے، شیخو پورہ ہے، امر تسر ہے، لاہور ہے۔ لاہور میں تو زمیندار کم ہیں۔ اسی طرح امرت سر میں بھی زمیندار کم ہیں لیکن سیالکوٹ، شیخو پورہ، گجرات، سر گودھا، لائلپور ، منٹگمری میں جماعتیں