خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 85

1942ء 85 خطبات محمود ہونے کی حالت میں علم دین سے جاہل ہوا کرتے تھے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ہمارا علم ذاتی نہیں بلکہ خدا کا دیا ہوا علم ہے ہماری بہادری اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی بہادری ہے اور ہماری قربانیاں اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی توفیق کا نتیجہ ہیں اگر وہ خدا کی دی ہوئی بہادری نہ ہوتی ، اگر وہ خدا کا دیا ہوا علم نہ ہوتا۔ اگر وہ خدا کی دی ہوئی جرات نہ ہوتی تو اس کا اخلاص سے کیا تعلق ہوتا؟ پھر تو عادات سے اور محنت سے اور ذاتی جد وجہد اور کوشش سے اس کا تعلق ہوتا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں، وہ لوگ جو دنیوی لحاظ سے ان باتوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں مگر ان کے دلوں میں اخلاص ہوتا ہے۔ ان کو بھی خدا تعالیٰ وقت پر ایسی ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ یہاں ایک شخص “ پیرا ہوا کرتا تھا جو حضرت مسیح مو موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خادم اسے تھا۔ وہ اتنی موٹی عقل کا آدمی تھا کہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا کہ احمدیت کیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک ذاتی لگاؤ تھا کہیں اس کو گنٹھیا کی بیماری ہو گئی۔ وہ پہاڑی آدمی تھا اس کے رشتہ داروں کو بعض لوگوں نے کہا کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکے گا۔ اسے کہیں میدانوں میں لے جاؤ چنانچہ وہ اسے گورداسپور لے آئے مگر چونکہ وہ سب غریب آدمی تھے اور ایسے لوگوں کو روٹی بھی کھلانی پڑتی ہے اور دوائی بھی دینی پڑتی ہے۔ اس لئے کوئی شخص علاج کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا آخر کسی نے ان کو بتایا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جو بڑے خدا پرست ہیں۔ وہ معالج اور حکیم بھی ہیں۔ ان کے پاس لے جاؤ وہ اس کی خبر گیری بھی کریں گے اور دوائی بھی دیں گے۔ چنانچہ اس کے رشتہ دار ا سے حضرت صاحب کے پاس لے آئے اور اُسے یہاں چھوڑ کر کھسک گئے۔ حضرت صاحب نے اس کا علاج کیا اور آہستہ آہستہ اُسے آرام آنا شروع ہو گیا۔ جب اس کے رشتہ داروں کو معلوم ہوا کہ اب وہ اچھا ہو گیا ہے اور کام کاج کر سکتا ہے تو دوسری سردیوں میں پھر اس کے رشتہ دار یہاں آئے اور کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ چل پڑے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قلب میں نیکی تھی جب انہوں نے اسے کہا کہ ہم تجھے لینے کے لئے آئے ہیں تو وہ کہنے لگا تم بے شک میرے رشتہ دار ہو مگر تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لئے اب تو جس نے میر اعلاج کیا اور جس کی وجہ سے میں اچھا ہوا، میرا رشتہ دار وہی ہے۔ میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ وہ ڈیوڑھی پر پڑا رہتا تھا