خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 71

1942ء 71 خطبات محمود تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے نیچے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے اوپر دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔ صرف ایک جہت اس کے سامنے خدا تعالیٰ والی باقی رہ جاتی ہے اور اسی پر اس کی نظر پڑتی ہے اور سب جگہ اسے آگ ہی آگ دکھائی دیتی ہے مگر صرف ایک طرف اُسے امن نظر آتا ہے۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ مضطر کے معنوں میں یقین پایا جانا ضروری ہے۔ مضطر کے صرف یہی معنے نہیں ہیں کہ اس کے دل میں گھبراہٹ ہو کیونکہ گھبراہٹ میں بعض دفعہ ایک شخص بے تحاشا کسی طرف چل پڑتا ہے بغیر اس یقین کے کہ جس طرف وہ جا رہا ہے وہاں اسے امن بھی حاصل ہو گا یا نہیں بلکہ بعض لوگ گھبراہٹ میں ایسی طرف چلے جاتے ہیں جہاں خود خطرہ موجود ہو تا ہے اور وہ اس سے نہیں بچ سکتے۔ پس محض اضطراب کا دل میں پیدا ہونا اضطرار پر دلالت نہیں کرتا۔ اضطرار پر وہ حالت دلالت کیا کرتی ہے جب چاروں طرف کوئی پناہ کی جگہ انسان کو نظر نہ آتی ہو اور ایک طرف نظر آتی ہو ۔ گویا اضطرار کی نہ صرف یہ علامت ہے کہ چاروں طرف آگ نظر آتی ہو بلکہ یہ علامت بھی ہے کہ ایک طرف امن نظر آتا ہو اور انسان کہہ سکتا ہو کہ وہاں آگ نہیں ہے۔ تو وہی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول کی جاتی ہے جس کے کرتے وقت بندہ اس رنگ میں اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اُسے یقین ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے میرے لئے اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ۔ یہی وہ مُضطر کی حالت ہے جسے رسول کے رسول کریم صلی الم نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے کہ لا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ اے خدالًا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْكَ تیرے عذاب اور تیری طرف سے آنے والے ابتلاؤں سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، کوئی خوف کی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ میں سب طرف سے مایوس ہو کر اور آنکھیں بند کر کے تیری طرف آجاؤں ۔ تولا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَاً والی جو حالت ہے یہی اضطرار کی کیفیت ہے اور جب خدا نے قرآن میں کہا کہ اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ بتاؤ مُضطر کی کون سنتا ہے۔ تو مضطر کے معنے یہی ہوئے کہ ایسے شخص کی دعا جو اللہ تعالی کے سوا کسی کو مَلْجَا وَ ماوی نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا مَلْجَا وَ مَنْجَا قرار نہیں دیتا۔ اور اس آیت میں کہ امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ در حقیقت اسی کیفیت اضطرار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔