خطبات محمود (جلد 23) — Page 577
1942ء 577 خطبات محمود کم نہیں ہوا کرتی۔ اگر تم کسی چیز کو ظل قرار دو تو یہ لازمی بات ہو گی کہ اس کا کوئی اصل بھی ہو گاورنہ اگر کوئی اصل چیز نہیں تو اس کا سایہ کہاں سے آگیا۔ پس کسی چیز کو ظل تسلیم کرنے کے معنے یہ ہوا کرتے ہیں کہ ہم اصل کا انکار نہیں کرتے بلکہ اس کے وجود پر تصدیق کی مہر لگاتے ہیں۔ حج تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر سال ہوتی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر زمانہ گزر جاتا ہے اور ان کا وجود نظر نہیں آتا یا بہت حد تک مشکوک ہو جاتا ہے مثلاً رسول کریم صلی ا یم کی ذات اب دنیا سے اوجھل ہے۔ آپ نے جو معجزات اور نشانات دکھائے وہ تاریخوں میں لکھے ہوئے ہیں مگر آجکل کے نو تعلیم یافتہ یا دشمن ان پر تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں مسلمانوں کے ہاتھ میں قلم تھا۔ انہوں نے جو چاہا، لکھ دیا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا اور فرمایا تم ظل محمد تہو یعنیمحمد صلی اللی ایم کے سایہ ہو۔ اس سایہ سے جب نہایت ہی زبر دست نشانات ظاہر ہوئے جن سے خدا تعالیٰ کا چہرہ لوگوں کو نظر آنے لگ گیا تو دنیا کو مانا پڑا کہ اصل میں بھی یہ تمام کمالات اپنی پوری شان سے موجود تھے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ایک زندہ ثبوت اس ، ذریعہ ایک زندہ ثبوت اس بات کا مل گیا کہ رسول کریم صلی اللی ام ایک انسان کی حیثیت سے بے شک فوت ہو چکے ہیں مگر ایک عظیم الشان نبی کی حیثیت سے اب تک زندہ ہیں ورنہ آج آپ کا سایہ نہ ہوتا اور نہ آپ کے سایہ سے ایسے عظیم الشان معجزات ظاہر ہوتے۔ اگر آئینہ میں کسی کا عکس پڑے اور ہمیں عکس میں اس کا ناک دکھائی دے۔ تو ماننا پڑے گا کہ جس کا سایہ ہے اس کا ناک ضرور ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آئینہ میں عکس کا تو ناک نظر آئے مگر اصل کا ناک نہ ہو یا عکس کی آنکھیں ہوں مگر اصل کی آنکھیں نہ ہوں یا عکس کے کان ہوں مگر اصل کے کان نہ ہوں یا عکس کے ہاتھ ہوں مگر اصل کے ہاتھ نہ ہوں تو جب کسی کا ظل لوگوں کے سامنے آ جائے اور اس ظل میں وہ تمام چیزیں نظر آ جائیں جن کا انکار لوگ اصل کے متعلق کیا کرتے تھے تو ماننا پڑے گا کہ اصل میں بھی وہ تمام چیزیں موجود ہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و الـ و السلام کی ذات نے رسول کریم صلی علیم کی ان خوبیوں کا جن کا دنیا انکار کر رہی تھی۔ ایک زندہ ثبوت بہم پہنچا دیا اور اس طرح آپ کا وجود رسول کریم صلی العلم کی صداقت کا ثبوت ٹھہرا۔ کوئی احمق کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب غلط کہتے تھے صد الله رتو