خطبات محمود (جلد 23) — Page 569
1942ء 569 خطبات محمود تو اس گھر یا اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دو۔ “ ایسا شخص اگر مکان دے بھی دے جس کے دل میں نفاق ہے تو ہم نے ایسے لعنتی مکان کولے کر کیا کرنا ہے۔ اس میں تو جو رہے گا اس کی کبھی نماز چھوٹ جائے گی، کبھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ میں کسی مخلص سے یہ امید نہیں کر سکتا کہ اسے یہ واضح کر دیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے مہمانوں کے لئے مکان کی ضرورت ہے مگر وہ کہے کہ وہ جہاں چاہیں رہیں یا نہ رہیں۔ میں تو اپنے گھر میں آرام سے رہوں گا۔ قادیان میں مکانوں کی کمی نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ لوگوں نے تنگی کے باوجود یہاں نئے مکان بنائے ہیں۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ مکان نہ مل سکیں۔ میرے نزدیک یہ کارکنوں کی غلطی ہے اور میں اس بارہ میں جماعت کو مخاطب کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ کارکنوں کو چاہئے تھا که صحیح طریق اختیار کرتے۔ جو یہ تھا کہ اگر ان کو کوئی دقت پیش آئی تھی تو میرے پاس آتے اور مجھے بتاتے۔ پھر میں ان کو صحیح علاج بتاتا لیکن معلوم ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس گئے ہی نہیں اور قبل از وقت اس طرح اعلان اخبار میں کرنا میرے نزدیک جماعت کی ہتک ہے۔ اس لئے میں اس بارہ میں جماعت کو مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ قصور ان کا ہے جو لوگوں کے پاس گئے نہیں۔ ورنہ کوئی مخلص احمدی کوئی الہی تحریک سن کر پیچھے رہ سکے۔ یہ بالکل ناممکن بات ہے۔“ (الفضل 16 دسمبر 1942ء) 1: بخاری کتاب النکاح باب قول الرجل لاخيه انظر أى زَوْجَتَى شِئْتَ حتى انزل لك عنها 2 متی باب 10 آیت 14