خطبات محمود (جلد 23) — Page 541
1942ء 541 خطبات محمود رض جب خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور انسان معمولی معمولی قربانیوں سے بڑے بڑے انعامات حاصل کر سکتا ہے۔ دیکھ لو ! رسول کریم صلی العلیم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول صحابی تھا مگر بعد میں بڑے بڑے لوگ بھی صحابیت کا مقام حاصل نہیں کر سکے۔ کسی بہت بڑے مجاہدہ کرنے والے انسان نے صحابہ کے درجے کو پایا ہو تو اور بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ہیں جن سے رسول کریم صلی الیم ملے ہوں اور اس طرح انہیں آپ کی صحابیت کا شرف حاصل ہوا ہو۔ ہاں اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تم کو صحابی بننے کا موقع دے دیا کیونکہ تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح موعود وہ شخص ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی العلیم نے فرمایا کہ میں اور وہ ایک ہی ہیں۔ اس اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہو گا۔ گویا ع من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی والا معاملہ ہو گا۔ تو سینکڑوں سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام عطا فرمایا۔ آپ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف دو آنہ چندہ دیا کرتے ہیں مگر صحابی وہ بھی کہلاتے ہیں۔ اسی طرح آپ لوگوں میں وہ بھی ہیں جو پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھ سکتے ہیں لیکن پڑھتے مسجد میں چار ہیں۔ خدا تعالیٰ کے حضور ایسے لوگ بے شک کمزور یا گنہگار سمجھے جائیں گے مگر جب وہ مر جائیں گے تو خدا کے حضور تو وہ کمزور مومنوں میں شمار ہوں گے لیکن دنیا میں ان کی اولا دوں کو بڑے بڑے بادشاہ بلا کر عزت و تعظیم کی جگہ پر بٹھائیں گے اور کہیں گے یہ فلاں صحابی کی اولاد ہیں۔ صحابیت کے مقام کے لحاظ سے بے شک تمہارے اندر بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں مگر تم نے صحابی بن کر اپنی اولادوں کے لئے جائدادیں پیدا کر دی ہیں۔ بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے اور وہ تمہاری اولادوں کی عزت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وہ کہیں گے یہ صحابی کی اولاد ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ صحابی کہلانے والا منافق ہو یا کمزور اور خطا کار مومن ہو۔ چنانچہ دیکھ لو۔ خدا تعالیٰ نے عبد اللہ بن ابی بن سلول کو تو ظاہر کر دیا اور بتا دیا کہ وہ منافق ہے مگر اور منافقوں کو ظاہر نہیں کیا حالانکہ بیسیوں منافق تھے اور رسول کریم صلی الیم کو ان کا علم تھا۔ حضرت حذیفہ ایک صحابی تھے۔ وہ ہمیشہ رسول کریم صلی العلیم کے پیچھے پڑ کر اصرار سے دریافت کیا