خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 490

1942ء 490 خطبات محمود یا آٹھ آٹھ آنہ دے کر حصہ لے سکیں اور اس طرح مل کر ایک پرچہ جاری کر اسکیں۔ تو اگر ہم اڑھائی روپیہ کی شرط لگا دیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم ان کو اس میں حصہ لینے سے روکتے ہیں۔ تحریک جدید اور اس تحریک میں فرق یہی ہے کہ تحریک جدید کی اصل غرض یہ ہے کہ زیادہ تر بوجھ آسودہ حال لوگوں پر پڑے۔ تحریک جدید کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا فنڈ مہیا کیا جائے جو تبلیغ کے کچھ حصہ کا خرچ ادا کرتا رہے چونکہ اس میں جائداد پیدا کرنے کی صورت تھی اس لئے اس کا بوجھ زیادہ تر صاحب جائداد لوگوں پر ڈالا گیا اور یہ شرط رکھی گئی کہ اس میں جو حصہ لینا چاہے کم سے کم ایک سال میں پانچ روپے چندہ دے۔ وہ چونکہ ایسے لوگوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایسے کام کے لئے ہے جو مالداروں سے مشابہت رکھتا ہے، چاہے سلسلہ کے لئے ہی اس سے جائداد خریدی جارہی ہے۔ بہر حال وہ مال ہے اس لئے اسے ایسے لوگوں تک محدود رکھا گیا جن کی جائدادیں ہوتی ہیں اور اس وجہ سے ان کے اموال مشکوک بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے یہ تحریک ان کے لئے مخصوص کی گئی تا ان کے مال حلال ہو جائیں اور جائداد کی زکوۃ نکل جائے اور ان کی جائدادوں سے ایک حصہ خدا تعالیٰ کے نام پر خرچ ہو سکے مگر یہ تحریک ایسی نہیں جس سے کوئی جائداد بنائی جاتی ہے بلکہ یہ اعلائے کلمۃ اللہ کے روزہ مرہ کے کاموں کے لئے ہے اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فرض ہر ایک کے لئے ہے۔ پس اس تحریک میں حصہ لینے میں کوئی روک نہیں اور کوئی شرط نہیں کہ ضرور کم سے کم اتنی رقم دی جائے مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ اگر کوئی زیادہ دے سکتا ہے تو میری طرف سے اس رعائت سے فائدہ اٹھا کر وہ کم دے دے۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملنے کی بات ہے مجھ سے یا کسی اور سے کچھ حاصل کرنے کی بات نہیں۔ اس لئے جو شخص اس میں زیادہ حصہ لے سکتا ہے اور نہیں لیتا وہ خدا تعالیٰ کے حضور ثواب کا حقدار نہیں بلکہ کوتاہی کا مجرم ہو گا۔ تبلیغ کو قرآن کریم نے ہر مومن پر فرض قرار دیا ہے اس لئے جو شخص اس میں زیادہ حصہ لے سکتا ہے مگر کم لیتا ہے وہ یقیناً مجرم ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ایک روپیہ دے دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا۔ خدا تعالیٰ یہ نہیں کہے گا کہ اسے ایک روپیہ دے دینے کا ثواب دیا جائے بلکہ کہے گا کہ اس پر چار روپے واجب تھے مگر دیا اس نے ایک۔ اس لئے باقی تین نہ دینے پر اسے گرفت کی جائے۔ پس اس